شہباز تاثیر کے بعد علی حیدر گیلانی بھی بازیاب
اسلام آباد: سابق وزيراعظم يوسف رضا گيلانی کے صاحبزادے کو تين سال ايک دن بعد آج افغانستان سےبازیاب کروا ليا گيا،ان کے اغوا اور بازيابی کے دوران کب کيا ہوا، کب علی حيدر گيلانی کی اپنے والد سے بات ہوئی،اس کی تفصیل درج ذیل ہے
آج گيلانی خاندان کو بڑی خوشخبری مل گئی، تين سال قبل ملتان سے اغوا ہونے والے علی حیدرگیلانی کو آج افغانستان سے بازياب کرا ليا گيا۔
علی حيدر کو 9 مئی 2013 کو عام انتخابات کی مہم کے دوران ملتان کے علاقے خرم ٹاؤن سے اغوا کيا گياتھا۔
علی حیدرگیلانی کی بازیابی کيلئے پیپلزپارٹی کی جانب سے کئی بار احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئےتھے۔گذشتہ برس مئی میں علی حیدر گیلانی کی آٹھ منٹ تک ان کے والد يوسف رضا گيلانی سے فون پر بات کرائی گئی تھی۔ٹيليفونک گفتگو ميں علی حیدر نے بتايا تھا کہ جس مقام پر پہلے انہیں رکھا گيا وہاں حالات ٹھيک نہیں اور اکثر ڈرون حملے ہوتے ہيں۔
علی حیدر گیلانی کے اغوا کے بعد کئی بارخبریں آئی کہ یوسف رضا گیلانی کو بیٹے کی خیریت سے آگاہ کيا گيا ہے۔
اپریل 2014 میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو علی حیدر گیلانی کی ایک ویڈیو ملی۔اس ويڈيو ميں علی حيدرگيلانی نے بتايا تھا کہ انہیں کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے نہیں بلکہ کسی اور گروہ نے اغوا کیاہے۔
تاحال يہ بھی واضح نہیں کہ علی حیدر گیلانی کو کس گروپ کی قید سے آزاد کرایا گیا ہے تاہم عام تاثر یہی رہا ہے کہ علی حیدر گیلانی کو طالبان نے اغوا کيا تھا۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔