آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار، بحری بحران شدت اختیار کر گیا، سیکڑوں جہاز اور عملہ محصور
اقوام متحدہ کی میری ٹائم ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز میں جاری رکاوٹوں کے باعث خلیج میں بڑے پیمانے پر بحری بحران پیدا ہو گیا ہے۔ اس صورتِ حال میں سیکڑوں تجارتی جہاز اور ان کے عملے کے ہزاروں افراد سمندر میں پھنس گئے ہیں۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومنگیز نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث تقریباً 1500 جہاز خلیج کے مختلف حصوں میں پھنس گئے ہیں۔
پاناما میں منعقدہ میری ٹائم کنونشن آف دی امریکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 20 ہزار بحری عملہ بھی موجود ہے جو اس وقت سمندر میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ افراد ایک ایسے جیو پولیٹیکل بحران کا سامنا کر رہے ہیں جو ان کے کنٹرول سے باہر ہے۔
ڈومنگیز نے کہا کہ عالمی تجارت کا بڑا انحصار سمندری راستوں پر ہے اور دنیا بھر میں 80 فی صد سے زائد مصنوعات سمندر کے ذریعے منتقل کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق پھنسے ہوئے ملاح معصوم افراد ہیں جو روزانہ اپنے فرائض انجام دیتے ہیں لیکن عالمی کشیدگی کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، جو 28 فروری کو ایران پر ہونے والے حملوں کے بعد مزید بڑھ گئی، نے آبنائے ہرمز کی صورتِ حال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس راستے سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی تھی، تاہم موجودہ صورتِ حال میں عالمی توانائی منڈی پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔
توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ بھی رپورٹ کیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھنسے ہوئے جہازوں کے لیے بحری آپریشن شروع کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا تھا، تاہم یہ منصوبہ بعد میں روک دیا گیا۔ اس وقت واشنگٹن ایران کے جواب اور ممکنہ سفارتی اقدامات کا انتظار کر رہا ہے۔













