ملا منصور کو مارکر مذاکرات نہیں ہوسکتے ،چوہدری نثار

شائع 24 مئ 2016 04:35pm

فائل فوٹو فائل فوٹو

اسلام آباد:وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ ڈرون حملے کا جواز ناقابل قبول ہے اور ملا منصور کو مار کر مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس میں خطے خصوصا پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی کو آڑے ہاتھوں لیا اور انہوں نے کھل کر امریکا کو تنقید کا نشانہ بنایا۔چوہدری نثار نے ملا اختر منصور پر حملے کو پاکستان کیخلاف سازش قرار دے دیا اورکہا کہ محمد ولی دنیا بھر میں سفر کرتا رہا آخر اسے پاکستان میں ہی کیوں نشانہ بنایا گیا۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ امریکا کی منطق سمجھ سے بالا تر ہے،طالبان لیڈر کو مار کر مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ سمجھ نہیں آتا کہ امریکا خطے میں کونسی پالیسی رکھنا چاہتا ہے۔امریکا نے ہمارے لئے بیحد مشکل صورتحال پیدا کر دی ہے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مری میں مذاکرات ہوئے جبکہ ملا اختر منصور نے امن مذاکرات کیلئے افغان وفد کی قیادت کی تو پھر وہ امن کے لئے خطرہ کیسے بن گیا۔

چوہدری نثار نے کہا کہ امریکا نے اگر ملٹری آپریشن ہی کرنا ہے تو قطر میں طالبان کے دفتر کا کیا جواز ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی ڈرون حملے کا جواز غیر قانونی اور ناقابل قبول ہے،حملے کا امریکی جواز مانا تو جنگل کا قانون رائج ہو جائے گا۔وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کن علاقوں سے پاکستان پر حملے ہوتے ہیں،پاکستان کیلئے خطرہ بننے والے بہت سے لوگ مغرب میں ہیں،مگر پاکستان ان علاقوں میں گولہ باری نہیں کرتا۔