امریکا اور ایران کی جھڑپ کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت بڑھ گئی

ایران اور امریکا کی تازہ جھڑپوں کے بعد جمعے کے روز خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا
شائع 08 مئ 2026 10:26am

ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ جھڑپوں کے بعد تیل کی عالمی مارکیٹ میں بے چینی بڑھ گئی ہے، جہاں جمعے کے روز خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے جنگ بندی کے مستقبل اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق خدشات کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتِ حال میں اضافہ ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت 101.26 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 95.66 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ ابتدائی کاروبار کے دوران دونوں بینچ مارکس میں تین فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔

یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کی جانب سے جمعے کی شب ایک دوسرے پر آبنائے ہرمز میں حملوں کا الزام عائد کیا گیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔

ایران نے امریکا پر الزام لگایا کہ اس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایرانی آئل ٹینکر، ایک جہاز اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائی ایران کی جانب سے امریکی بحری جہازوں پر فائرنگ کے جواب میں کی گئی۔

اس کشیدگی کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے، تاہم مارکیٹ میں اس بیان کے باوجود بے یقینی برقرار رہی۔

بین الاقومی تیل مارکیٹ کے تجزیاتی ادارے ’وانڈا انسائٹس‘ کی بانی وندانا ہری کا کہنا کہ مارکیٹ مکمل ٹوٹ پھوٹ کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ان کے مطابق قیمتوں کا تعین اب جنگ کی حقیقی صورتِ حال یا آبنائے ہرمز میں زمینی حقائق کے بجائے غیر یقینی سیاسی اشاروں پر ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ مسلسل صورتِ حال میں بہتری کی امید کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے، جب کہ مارکیٹ بھی اس امید پر ردعمل دے رہی ہے، تاہم ہر بار قیمتوں میں بحالی محدود اور غیر مکمل ثابت ہو رہی ہے۔

Oil-prices-jump-after-US-Iran-clashes

یاد رہے کہ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس (این این جی) کی ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی تھی، جس کے باعث اس آبی گزرگاہ کی صورتِ حال عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

مالیاتی ادارے ’آئی جی‘ کے تجزیہ کار ٹونی سائی کامور نے کہا کہ تیل کی سپلائی کے حوالے سے صورتحال بدستور انتہائی سخت ہے، جس سے قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن (سی ایف ٹی سی) سات ارب ڈالر مالیت کی آئل ٹریڈنگ کی تحقیقات کر رہا ہے۔ یہ ٹریڈز صدر ٹرمپ کے ایران جنگ سے متعلق اہم اعلانات سے قبل کیے گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق زیادہ تر سرمایہ کاری تیل کی قیمتوں میں کمی پر لگائی گئی شرطوں پر مشتمل تھی، جو انٹرکانٹینینٹل ایکسچینج (آئی سی ای) اور شکاگو مرکنٹائل ایکسچینج (سی ایم ای) میں کی گئی۔ ان ٹریڈز کا تعلق ان بیانات سے جوڑا جا رہا ہے جن میں ٹرمپ نے حملوں میں تاخیر، جنگ بندی یا ایران پالیسی میں تبدیلیوں کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں قیمتیں نیچے آئی تھیں۔

ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ہر نیا مرحلہ اور کارروائی نہ صرف عالمی توانائی مارکیٹ بلکہ دنیا بھر کی معیشتوں کے لیے بھی بڑے خطرات پیدا کر رہا ہے، جبکہ سرمایہ کار اب بھی کسی مستقل امن معاہدے کے منتظر ہیں۔