چارسدہ :یونیورسٹی پر حملہ ،ایک اسسٹنٹ پروفیسر سمیت بیس جاں بحق
چارسدہ :دہشتگردوں نے ایک بار پھر اس قوم کو للکارہ ہے، چارسدہ یونیورسٹی پر انسانیت کے دشمنوں کے حملے میں بیس افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے، پاک فوج ایف سی اور پولیس کے جوانوں نے پیشہ وارانہ مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے حملے میں ملوث چاروں دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں اسسٹنٹ پروفیسر حامد حسین، تیرا طلبہ، پانچ سیکیورٹی اہلکار اور ایک مالی شامل ہے۔
وفاقی حکومت نے ایک روزہ جبکہ چاروں صوبوں نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔صبح نو بجے کا وقت تھا چارسدہ میں دھند طاری تھی۔ایسے میں اندھیروں کے پرچاریوں نے علم کے دیئے بجھانے کی ٹھانی۔چار دہشتگرد باچا خان یونیورسٹی کی عقب کی دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے،اورعلم کے حصول میں مصروف نہتے طلبا پر بندوق کے دہانے کھول دیئے۔دہشتگردوں کے راستے میں سب سے پہلے یونیورسٹی کے گارڈزحائل ہوئے،گولیاں کو تڑتڑاہٹ میں دھماکے کرتے دہشتگردوں نے ہاسٹل میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
اسی دوران پاک فوج کے کمانڈوز بھی ائیرسرولینس کے ساتھ آپہنچے،آرمی ، ایف سی اور پولیس کے جوانوں نے دہشتگردوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا،ایک گھنٹے کے اندراندر قوم کے دشمنوں کو یونیورسٹی کے دو بلاکس میں محصور کردیا گیا،جلد ہی فائرنگ کرنے والے دو دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا۔
اسی دوران دو دہشتگرد یونیورسٹی کی چھت پر پہنچ گئے،سیکیورٹی اہلکاروں نے حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے اسنائپرز کو استعمال کیا،شارپ شوٹرز نے انتہائی مہارت سے دونوں دہشتگردوں کو نشانہ بنایا،دور سے آنے والی خاموش گولیوں نے یونیورسٹی کی چھت پر موجود دونوں دہشتگردوں کو خاک چٹا دی۔
لیکن اس دوران علم کے دشمن زندگی کے بیس بجھا چکے تھے، جبکہ حملے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے،پاک فوج کے جوانوں نے جلد ہی
یونیورسٹی کی چھت اور ہاسٹل سمیت تمام جگہوں پر پوزیشنز سنبھال لیں،یونیورسٹی میں پھنسے درجنوں طلبا کو ریسکیو کرلیا گیا۔
ڈی آئی جی مردان سعید خان وزیر نے بتایا کہ دو خودکش حملہ آوروں کی جیکٹس نہیں پھٹ سکی تھیں۔ایس پی انویسٹی گیشن چارسدہ شہاب الدین کا کہنا تھا کہ یونی ورسٹی ہاسٹل کو کلیئر کرا لیا گیا۔ریسکیو آپریشن میں پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز نے بھی حصہ لیا۔
دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آرعاصم باجوہ نے پریس کانفرنس میں واقعے میں اٹھارہ طالبعلموں کی جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ،ان کا کہنا تھا کہ فوج جب پہنچی تو چاروں دہشتگرد زندہ تھے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشتگردوں کو محصور نہیں کرلیا جاتا تو مزید نقصان کا اندیشہ تھا۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔