ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے لیکن تہران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران ڈیل چاہتا ہے لیکن تہران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں، یقین نہیں ہم کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، نہیں چاہتا کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں، ان کی قیادت 3 سے 4 حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔
جمعے کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے مگر ان کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ تجاویز سے وہ مطمئن نہیں اور اب ایران کے پاس کچھ نہیں بچا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں ہم نے کامیابی حاصل کی، ایران سے مذاکرات جاری ہیں، یقین نہیں کہ ہم ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ پائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی قیادت میں آپس میں اتحاد نہیں، ایرانی قیادت 3 سے 4 حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے اور انہیں کئی مسائل درپیش ہیں۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں، اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو دنیا کوآج زیادہ خطرہ ہوتا، ایران کی قیادت میں کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ، ایران کی موجودہ قیادت اندرونی اختلافات کا شکار ہے اور مختلف امور پر متفق نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس اب نہ فضائیہ ہے اور نہ بحریہ، سب کچھ تباہ ہوچکا ہے، ایرانیوں کو یہ بھی آئیڈیا نہیں کہ ان کی قیادت کس کے پاس ہے، ایرانی قیادت کو مناسب تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔
آبنائے ہرمز سے متعلق صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند ہے تاہم ایک یا 2 دن کے اندر ایران کے حوالے سے کچھ اہم پیشرفت ہو گی، ایران پر ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں، یا تو ایران کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے یا پھر کوئی معاہدہ کرلیں گے اور میری خواہش پہلا آپشن ہے، ایران سے صرف اچھے معاہدے کو قبول کروں گا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ ٹیلی فون کے ذریعے مذاکرات کر رہے ہیں، میں ایران کے ساتھ بات چیت سے خوش نہیں ہوں، ایران ایسی چیزیں مانگ رہا ہے، جن سے میں اتفاق نہیں کر سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اٹلی اور اسپین سے بھی خوش نہیں ہوں، جنگ ختم ہوگی تو تیل، گیس کی قیمتیں تیزی سے نیچے آجائیں گی، ممکنہ طور پر فرانس میں جی 7 سربراہی اجلاس میں شرکت کر سکتا ہوں۔
پاکستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں نہ صرف پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم کا احترام کرتا ہوں بلکہ پاکستان کی بہت عزت کرتا ہوں۔














