انکم ٹیکس ترمیمی بل دوہزارسولہ کثرت رائے سے منظور

شائع 21 جنوری 2016 02:35pm

na

اسلام آباد:قومی اسمبلی نے کالا دھن سفید کرنے کے لیے انکم ٹیکس ترمیمی بل دوہزارسولہ کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔اپوزیشن نے بل کو امتیازی قراردیتے ہوئے مخالفت کردی۔ خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو اٹک قلعے میں بہائے آنسوؤں کا واسطہ کالے دھن کی بجائے عوام کا سوچیں۔

کالا دھن سفید کرنے کے لیے انکم ٹیکس ترمیمی بل دوہزارسولہ قومی اسمبلی میں زاہد حامد نے پیش کیا۔ جسے کثرت رائے سے منظورکرلیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے بل کی مخالفت کی،اورنعرے بازی کی۔اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ نے کہا حکومت اس بل کے ذریعے کچھ بڑے لوگوں کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے۔ بل سے ٹیکس نیٹ میں اضافے کا خیال خام خیالی ہوگی۔ خورشید شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نے اعلان کیا تھا ٹیکس کو سولہ فیصد سے کم کرکے دس فیصد پرلائیں گے۔وزیراعظم کو اٹک قلعے میں بہائے آنسوؤں کا واسطہ عوام کا سوچیں۔ وزیراعظم ہاؤس میں لگائی گئی ہتھ کڑی کا واسطہ عوام کا سوچیں۔کالے دھن اورٹیکس چوروں کی بجائے عوام کا سوچیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آٹھ مرتبہ ایسی اسکیمیں لائی جا چکی ہیں لیکن ناکام ہوئیں۔ اب نویں مرتبہ تجربہ کیا جا رہا ہے۔ اسد عمرکو بات کرنے دینے کی اجازت نہ ملنے پرتحریک انصاف کے اراکین کی ڈپٹی اسپکرسے جھڑپ بھی ہوئی۔قومی اسمبلی نے پی آئی اے کو کمپنی میں تبدیل کرنے کا بل بھی منظورکرلیا۔