بچپن میں سپر ہٹ جوانی میں فلاپ اداکار
ٹیلنٹ ایک ایسی چیز ہے جو انسان کی کامیابی یا ناکامی کا سبب بنتا ہے کوئی تو بہت کچھ پڑھ کر بھی اس دنیا میں کچھ نہیں کرپاتا تو کوئی بناء کچھ پڑھے لکھے ہی کامیابی کی بے شمار منازل تہہ کرلیتا ہے۔
آج ہم آپ کو بولی وڈ کے ان چائلڈ اسٹارز کے بارے میں بتانے جارہے ہیں جنہوں نے بچپن میں تو اپنے ہنر کی بدولت خوب لوگوں کے دل جیتے مگر جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے گئے تو ان کا ٹیلنٹ ماند پڑگیا اور وہ بولی وڈ میں ایک فلاپ آرٹسٹ کی حیثیت اختیار کرگئے۔
کنال خیمو
کنال ایک انتہائی کامیاب چائلڈ اسٹار کے طور پر بولی وڈ میں اپنا نام بنانے میں کامیاب رہے تھے۔ انہوں نے 'ہم ہیں راہی پیار کے' ، 'راجہ ہندوستانی' اور 'زخم' جیسی کامیاب فلموں میں اداکاری کی تاہم وہ اپنی جوانی میں کوئی ایسی کامیاب فلم نہ کرسکے اور فلاپ قرار پائے۔
ثناء سعید
ثناء سعید وہ اداکارہ ہیں جنہیں شاہ رخ خان اور رانی مکھرجی کی بیٹی کا کردار نبھانے کے لئے 200 بچوں میں سے چُنا گیا۔ انہوں نے یہ کردار 1998 میں فلم 'کچھ کچھ ہوتا ہے' میں ادا کیا۔ اس کے بعد بھی انہوں نے چائلڈ آرٹسٹ کی حیثیت سے کئی فلموں میں کام کیا اور کامیابیاں سمیٹیں لیکن اب جوانی میں وہ بھی ایک فلاپ اداکارہ ہیں۔
عمران خان
مسٹر پرفیکشنٹ کے بھانجے عمران خان فلم 'قیامت سے قیامت تک' اور 'جو جیتا وہی سکندر' میں چائلڈ آرٹسٹ کی حیثیت سے کامیابی حاصل کیں۔ جس کے بعد جوانی میں انہوں نے فلم 'جانے تو یا جانے نہ' میں کام کیاجو کسی حد تک کامیاب تو تھی لیکن عمران خان کا اس طرح نام نہ بنا سکی جس طرح ان سے امید کی جارہی تھی۔
جُگل ہنسراج
جُگل ہنسراج نے اپنے کیریئر کا آغاز 1983 میں فلم 'معصوم' سے کیا جس میں وہ لیجنڈ اداکار نصیرالدین شاہ کے بیٹے بنے تھے۔ لیکن اگر بات کی جائے ان کی جوانی کی تو سنہ 2000 کی فلم 'محبتیں' کے علاوہ کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے۔
ہنسیکا موٹوانی
ہنسیکا نے اپنے کیریئر کی ابتداء تو بچوں میں کافی مشہور ڈرامے 'شاکا لاکا بوم بوم' سے کی لیکن انہیں بولی میں موقع فلم 'کوئی مل گیا' میں ملا جس کے بعد انہوں نے ایڈلٹ اسٹار کے طور پر 'آپ کا سرور' مووی میں کام کیا جو کافی مشہور ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے کئی تامل فلموں میں کام کیا لیکن ایک بولی وڈ سپر اسٹار نہ بن سکیں۔
پرزان دستور
پرزان بھی فلم 'کچھ کچھ ہوتا ہے' میں ایک چھوٹے سے کیوٹ سے سردار کا کردار نبھا چکے ہیں لیکن اس کے بعد سے وہ بولی وڈ میں کوئی بھی کامیابی حاصل نہ کرسکے ہیں جیسے فلم 'سکندر' جس کو کوئی پذیرائی موسول نہ ہوئی۔ انہیں آخری بار فلم 'بریک کے بعد' میں دیکھا گیا۔
آفتاب شیودسانی
فلم 'مسٹر انڈیا' سے چائلڈ اسٹار کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کرنے آفتاب نے کئی فلموں میں اداکاری کی لیکن جب انہوں نے جوانی میں بولی وڈ میں واپسی کی تو کئی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے لیکن کوئی بڑا نام نہ بناسکے۔
شویتا باسو پرساد
فلم 'اقبال' میں شریاس تالپڑے کی بہن بننے والی شویتا نے بھی چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر خاصی کامیابیاں حاصل کیں جس میں نمایاں کارکردگی فلم 'مکڑی' میں بھی سامنے آئی جس پر انہیں 2003 میں نیشنل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تاہم جوانی میں وہ کوئی بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کرسکیں اور اس طرح یہ بھی فلاپ ہوگئیں۔
کِنشُک ویدیا
بچپن کے حسین لمحات کو سوچ کر یاد آجانے والا ڈرامہ 'شاکا لاکا بوم بوم' جس میں کِنشُک ویدیا نے سب کے دل جیتے انہوں نے اجے دیوگن کی فلم 'راجو چاچا' میں بھی اداکاری کی لیکن اب واپسی پر انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابیاں نہ مل سکیں اس طرح یہ بھی فلاپ ہوگئے۔
(محمد نعیم (جونیئر محمود
مشہور ترین گانے 'ہم کالے ہیں تو کیا ہوا دل والے ہیں' پر اپنے ڈانس سے شہرت حاصل کرنے والے چائلڈ آرٹسٹ محمد نعیم نے بھی جوانی میں کوئی خاطر خواہ کامیابیاں نہ سمیٹیں اور فلاپ قرار پائے۔
Thanks to wittyfeed



























اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔