بہترین اسٹنٹ مین کو آسکر ایوارڈ کیوں نہیں دیا جاتا؟
آسکر ہالی وڈ کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ اس میں تقریباً ہر کیٹیگری کیلئے ایوارڈ مختص ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں اسٹنٹ مینز کو کوئی آسکر نہیں دیا جاتا؟
اسٹنٹس انگریزی فلموں کا لازمی جز ہیں۔ لیکن یہ کرتب دکھانے والے ہمیشہ ہیرو یا ہیروئین نہیں ہوتے۔ انکی جگہ اسٹنٹ مین یا ویمن کا استعمال ہوتا ہے ، جنہیں ڈبلز بھی کہتے ہیں۔
یہ اسٹنٹ مین وہ خطرناک کام کرتے ہیں جو عام اداکار نہیں کر پاتے۔ اس کی محنت فلم کے ان مناظر کو یادگار بنا دیتی ہے۔
لیکن پھر بھی آسکر ایوارڈ میں ان لوگوں کو جگہ نہیں دی جاتی۔ بہت سےپیشہ ور اسٹنٹ مینز کا کہنا ہے کہ انہیں آسکر ایوارڈ کی کیٹیگری میں جگہ نہ دئے جانے کے سارے فیصلے اور وجوہات بے بنیاد ہیں۔
تاریخ میں صرف دو مواقع ایسے آئے ہیں جن میں اسٹنٹ کیٹیگری میں سے کسی کو آسکر ایوارڈ ملا ہو۔
ایک 1967 میں یاکیما کینَٹ کو کرتب کی دنیا میں انکی جدوجہد کو سراہنے کے لئے اعزازی ایوارڈ دیا گیا۔ اسکے علاوہ 2012 میں ہال نیڈھم کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔
گزشتہ سالوں میں جو فلمیں بنائی گئی ہیں ان میں ایکشن فلموں کی تعداد زیادہ ہے۔بہت سےاسٹنٹ ڈائریکٹرزاپنے کام کو پہچان دلوانے کے لئے سالہا سال سے سرگرم ہیں۔
آسکر کیٹیگری میں بہترین اسٹنٹ ڈیزائینر کے نام کا ایوارڈ پانا انکا مقصد ہے۔ انکا پہلا مقصد آسکر اکیڈمی میں اپنے نام کی ایک اپنی ایک شاخ بنانا ہے۔ اور اسکے بعد اس شاخ کے ذریعہ ایوارڈ حاصل کرنا ہے۔
فی الحال یہ کوشش جاری ہے۔ اناسٹنٹ مینز کے لئے اپنے کام کی پہچان اور سراہا جانا ہی سب سے بڑی بات ہے۔
بشکریہ Business Insider


















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔