سر کی معمولی چوٹ بھی ڈِمینشیا میں مبتلا کر سکتی ہے

شائع 09 مئ 2018 05:55am

dementiaڈِمینشیا کسی خاص بیماری کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک اصطلاح ہے جو یاداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں کمی میں ظاہر ہونے والی علامات کی وضاحت کرتی ہے۔ ان علامات میں انسان کی روزمرہ کی سرگرمیاں سرانجام نہ دے پانے کی علامت بھی شامل ہے۔

ڈِمینشیا سے متعلق ایک مطالعہ میں یہ نتیجہ سامنے آیا کہ سر پر لگنے والی معمولی سے معمولی چوٹ بھی دماغ پر ایسا اثر ڈال سکتی ہے جس سے اس انسان کو ڈمینشیا کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ سر پر لگنے والی چوٹ کی نوعیت اتنی معمولی بھی ہوسکتی ہے کہ انسان چوٹ کے باعث بےہوشی کی حالت میں نہ جائے۔ معمولی چوٹ کے باعث ڈِمینشیا کا خطرہ دُگنے سے بھی ذیادہ ہوجاتا ہے اگر سر کی چوٹ سے نیم بے ہوشی بھی طاری ہو۔

مطالعے میں ثابت ہوا کہ سر پر معمولی چوٹ لگنے سے نیم بےہوشی میں جانے والے لوگوں میں ڈِمینشیا کا خطرہ 2 اشاریہ 4 ہوتا ہے۔ یہ خطرہ 2 اشاریہ 5 تک بڑھ جاتا ہے اگر چوٹ کے بعد مکمل بےہوشی طاری ہوجائے۔ جبکہ یہ خطرہ چار گناہ بڑھ جاتا ہے یعنی 3 اشاریہ 8 کے قریب پہنچ جاتا ہے اگر سر کی چوٹ شدید نوعیت کی ہو اور اس سے دماغ کو گہری ٹھیس پہنچی ہو۔

تحقیق کاروں نے اس تحقیق میں دو گروپس پر علیحدہ علیحدہ تحقیق کی۔ پہلے گروپ میں عام افراد شامل تھے جنہیں کسی زمانے میں سر پر کوئی شدید قسم کی چوٹ لگی ہو۔ اور دوسرے گروپ میں فوج میں کام کرنے والے افراد تھے جنہیں اپنی فوجی ڈیوٹی کے دوران سر پر چوٹ آئی ہو، خاص طور پر دھماکوں کی لہروں سے پہنچنے والی چوٹ۔

دونوں گروپس کے نتائج ایک ہی جیسے تھے۔ یعنی عام حالات میں لگنے والی چوٹیں اور جنگی ماحول یں لگنے والی چوٹیں ایک ہی نوعیت کا نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ چوٹ کے باعث دماغ کو پہنچنے والا صدمہ دماغ کو بڑھتی عمر کی علامات اور دیگر دماغی مسائل کا شکار بنا سکتی ہے۔

سر کی چوٹ سے ڈِمینشیا کا خطرہ ہونے کا تعلق اس بات سے ہے کہ دماغی چوٹ دماغ میں ایسے پروٹینز کی پیدائش کو فروغ دیتی ہے جو دماغ میں موجود نیورونز کو ختم کر دیتے ہیں۔ نیورونز کا خاتمہ یاداشت سے متعلق ایک بیماری، الزائیمر کی وجہ بنتا ہے۔ الزائیمر کی بیماری ڈِمینشیا کی سب سے عام شکل ہے۔

Thanks to HT