کراچی :پی آئی اے ملازمین دھرنا کا مشکوک شخص عوام کے سامنے پیش
کراچی :جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے رینجرزکی جانب سے جاری ویڈیو میں مشکوک قراردیئے گئے شخص کو میڈیا کےسامنے پیش کردیا، مشکوک شخص پی آئی اے شعبہ انجینئرنگ کے فائرڈیپارٹمنٹ کا ملازم نکلا، جبکہ کراچی ایئرپورٹ پر فائرنگ سے جاں بحق دو پی آئی اے ملازمین کے قتل کا مقدمہ ایئرپورٹ تھانے میں درج کرلیا گیا۔
چیئرمین پی آئی اے جوائنٹ ایکشن کمیٹی سہیل بلوچ رینجرزکی جانب سے مشکوک قراردیئے گئے شخص کو میڈیا کے سامنے پیش کردیا، مشکوک شخص کا نام میرواثق ہے اور یہ پی آئی اے شعبہ انجینئرنگ کے فائرڈیپارٹمنٹ کا ملازم ہے، سہیل بلوچ کا کہنا تھا کہ میر واثق کا فائرنگ سے کوئی تعلق نہیں۔اس موقع پرمیرواثق نے میڈیا کے سامنے سفید رومال سے منہ ڈھانپ کے دکھایا، جس طرح سے ویڈیوکلپ میں انہوں نے چہراڈھانپ رکھا تھا۔
ادھر ائیر پورٹ پر دو پی آئی ملازمین کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا، جس میں دو وفاقی وزرا اور وزیر اعظم کے مشیر ہوابازی کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔مقامی عدالت کے حکم پر درج کیے جانے والے مقدمہ پی آئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ سہیل بلوچ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔جسمیں وفاقی وزیر پرویز رشید کے علاوہ سینٹر مشاہد اللہ خان، وزیر اعظم کے مشیر برائے ہوا بازی شجاعت عظیم، ماما مقصود اور بریگیڈ ریٹائرڈ آصف اور دیگر ملوث ہیں۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔