پنجاب :سرکاری اسپتالوں میں حالات بدترین
لاہور :پنجاب بھر کے سرکاری اسپتالوں کے حالات بدترین ہوتے جارہے ہیں،ایمرجنسی اور آو¿ٹ ڈور ہر وقت مریضوں سے بھرے رہتے ہیں مگر نئے اسپتال کی تعمیر کے ساتھ طبی سہولیات کی فراہمی کا مسئلہ تاحال التواءکا شکار ہے۔
پنجاب بھر کے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی ہویا آو¿ٹ ڈور۔ہر جگہ مریضوں کا رش لگا رہتا ہے،قطار بنائے اور ڈاکٹروں کے کمروں کے باہر انتظار کی سولی پر لٹکے مریضوں کو ڈاکٹر ملتا ہے نہ علاج ہوپاتا ہے۔صوبائی دارلحکومت لاہور کے ہر ہسپتال میں صوبے بھر سے مریضوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث کوئی ٹیسٹ کرانے کا منتظر ہے تو کوئی ڈاکٹرز سے چیک اپ کی پرچیاں سنبھالے پھرتا ہے۔
سال دوہزار پندرہ سولہ کے بجٹ میں محکمہ صحت پنجاب کے لیے ایک سو بیس ارب روپے مختص ہوئے مگر نہ تو غریب کو مفت ادویات ملیں اور نہ ہی کوئی نیا ہسپتال تعمیر ہوا،موجودہ ہسپتالوں میں بنائے جانے والے نئے وارڈز اور یونٹس بھی دس سال سے التواءکا شکار ہیں،مریض کہتے ہیں سڑکیں بنانے کی بجائے نئے اپستال تعمیر کئے جائیں ۔
پنجاب بھر میں تئیس ٹیچنگ اسپتال اور چونتیس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرزہسپتال ہیں مگر دوہزار تین سے اب تک نہ تو کوئی اسپتال بنایا گیا اور نہیں کوئی منصوبہ زیرغور ہے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔