ایک سانس میں پانی پینے کے نقصانات
نبی کریم صلیٰ علیہ والہ وسلم کو پوری دنیا کیلئے رحمت بناکر بھیجا گیا ہے۔ اور چاہے کوئی معمولی سی بات ہو جس میں انسانیت کا نقصان یا کوئی ایسی بات جس سے انسانیت کا کوئی بڑا نقصان پہنچے ہر بات کی جانب نبی آخرزمان کی جانب سے اشارہ کیا گیا ہے ۔
نبی کریم کو تمام مخلوقات کیلئے رحمت بناکر بھیجا گیا ہے اور وہ تمام باتیں جن میں بھلائی پوشیدہ تھیں وہ تمام کی تمام اپنی امت کو بتادیں۔
اسہی طرح صحابہ اکرام کا کہنا ہے کہ نبی کریم تین سانس میں پانی پیتے تھے اور اس حوالے سے نبی کریم کا کہنا ہے کہ تین سانس میں پانی پینے سے انسان کافی سیراب ہوتا ہے اور اس میں تکلیف بھی نہیں ہوتی ، جبکہ یہ خوشگوار بھی ہے۔ اس طرح آپ نے پانی تین سانس میں پینے کی تلقین فرمائی۔
تحقیق سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے اگر ایک سانس میں پانی پیا جائے تو پانی پینے کے دوران سانس کی نالی خود بخود بند ہوجاتی ہے جس سے خون کی صفائی کا عمل نہیں ہوپاتا، اس طرح تین سانس میں پانی پینے سے انسان کا خون صاف ہوتا ہے۔
بصورت دیگر اگر ہم ایک سانس میں پانی پیتے ہیں تو اس کے بھی بے تحاشا نقصانات ہیں ، ایک سانس میں پانی پینا معدے اور آنتوں پر منفی اثرانداز ہوتا ہے کیونکہ اس سے ہاضمہ بگڑنے کا خدشہ ہوتا ہے اور انسان تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے۔
اسہی طرح اگر زیادہ پانی اس وقت پی لیا جائے تو جب معدہ خالی ہو تو اس سے بھی خون کا دباو بڑھ جاتا ہے کیونکہ پانی تیزی سے خون میں جذب ہوجاتا ہے۔ اور خون کا دباو اس وقت تک متعدل نہیں ہوتاجب تک اسکا اخراج نہیں ہوتا۔
اسکے علاوہ معدے میں پانی زیادہ مقدار میں ہونے کے سبب انسان کے پیٹ پر بھی دباو بڑھ جاتا ہےجس سے آنتوں کی تکلیف میں بھی انسان مبتلا ہوسکتا ہے۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔