اونچی آواز میں جھگڑا: اسلام آباد مذاکرات کے دوران بند کمرے میں کیا ہوا؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی

ایک موقع پر تو نوبت یہاں تک پہنچی کہ کمرے سے باہر اونچی آوازیں سنائی دینے لگیں
شائع 14 اپريل 2026 11:03am
علامتی تصویر بزریعہ اے آئی
علامتی تصویر بزریعہ اے آئی

اسلام آباد کے پرتعیش سرینا ہوٹل میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب وہ کچھ ہوا جو دہائیوں میں نہیں ہوا تھا، لیکن اتنی محنت کے باوجود نتیجہ ادھورا رہ گیا۔ امریکہ اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والے ان تاریخی مذاکرات کے اندرونی احوال بتاتے ہیں کہ یہ رات کسی فلمی منظر سے کم نہیں تھی، جہاں امیدیں اور مایوسیاں ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، ہوٹل کے اندر دو الگ الگ ونگز بنائے گئے تھے، ایک امریکیوں کے لیے اور دوسرا ایرانیوں کے لیے، جبکہ ایک مشترکہ کمرے میں پاکستانی ثالثوں کی موجودگی میں آمنے سامنے گفتگو ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق، سکیورٹی اتنی سخت تھی کہ مرکزی کمرے میں موبائل فون لے جانے کی اجازت نہیں تھی، جس کی وجہ سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی اسپیکر باقر قالیباف کو اپنے اپنے ملکوں میں پیغام بھیجنے کے لیے بار بار کمرے سے باہر آنا پڑتا تھا۔

مذاکرات کے دوران ایک وقت ایسا آیا جب شدید امید پیدا ہوئی کہ شاید آج کوئی بڑا معاہدہ ہو جائے گا۔

مذاکرات سے جڑے ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ دونوں فریقین ایک معاہدے کے 80 فیصد تک قریب پہنچ چکے تھے، لیکن پھر کچھ ایسے معاملات سامنے آئے جن پر موقع پر فیصلہ کرنا ناممکن تھا۔

ایرانی ذرائع نے بتایا کہ شروع میں ماحول انتہائی بوجھل اور تلخ تھا، اور پاکستان کی جانب سے ماحول کو خوشگوار بنانے کی تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی بھی فریق پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔

ذرائع نے کہا کہ تاہم اتوار کی صبح ہوتے ہوتے تلخی کچھ کم ہوئی اور بات یہاں تک پہنچی کہ شاید مذاکرات میں ایک دن کی توسیع کر دی جائے، لیکن پھر ایٹمی پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے پیچیدہ مسائل پر بات دوبارہ بگڑ گئی۔

کمرے کے اندر کا حال بتاتے ہوئے ایک ذریعے نے بتایا کہ جب ضمانتوں اور پابندیوں کے خاتمے کی بات آئی تو ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا لہجہ سخت ہو گیا۔ انہوں نے امریکی وفد سے سوال کیا کہ ہم آپ پر کیسے بھروسہ کریں جب جنیوا مذاکرات کے صرف دو دن بعد ہی ہم پر حملہ کر دیا گیا؟

ذرائع کا کہنا تھا کہ ایک موقع پر تو نوبت یہاں تک پہنچی کہ کمرے سے باہر اونچی آوازیں سنائی دینے لگیں، جس پر پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے مداخلت کی، چائے کا وقفہ کروایا اور دونوں فریقین کو دوبارہ الگ الگ کمروں میں بھیج دیا تاکہ غصہ ٹھنڈا ہو سکے۔

رپورٹ کے مطابق، امریکا کا موقف واضح تھا کہ وہ کسی صورت ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، جبکہ ایران کا مطالبہ تھا کہ ان پر لگی تمام پابندیاں ختم کی جائیں اور ان کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں۔

اتوار کی صبح جب جے ڈی وینس میڈیا کے سامنے آئے تو انہوں نے اسے امریکا کی جانب سے ’آخری اور بہترین پیشکش‘ قرار دیا اور کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔

اگرچہ اسلام آباد میں کوئی حتمی دستخط نہیں ہو سکے، لیکن وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ کوششیں اب بھی جاری ہیں۔ پسِ پردہ اب بھی پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بات ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئی۔