قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کا آج 119واں یوم پیدائش

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2019 09:29am
فائل فوٹو فائل فوٹو

لاہور:قومی ترانے اور شاہنامہ اسلام کے خالق حفیظ جالندھری کا آج 119واں یوم پیدائش منایا جارہا ہے۔

حفیظ جالندھری نے اپنی تحریرسے مسلمانوں میں جذبہ آزادی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا، انہوں نے1948میں کشمیر کی آزادی میں بھی حصہ لیا اور زخمی ہوئے، قوم آج ان کا یوم پیدائش منا رہی ہے۔

قومی ترانے کے خالق کی حیثیت سے حفیظ جالندھری نے شہرت دوام پائی، ملکہ پکھراج نے ان کی نظم ابھی تو میں جوان ہوں کو گا کر امر کردیا، آپ 82 سال کی عمر میں اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے تھے۔

حفیظ جالندھری ایک نامور شاعر اور نثرنگار ہیں آپ 14 جنوری 1900 کو ہندوستان کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے اور آزادی کے وقت آپ لاہور منتقل ہوگئے، آپ کا قلمی نام ’ابولاثر‘ تھا۔

آپ کا فنی کارنامہ اسلام کی منظوم تاریخ ہے جس کا نام ’شاہ نامۂ اسلام‘ ہے لیکن آپ کی وجۂ شہرت پاکستان کا قومی ترانہ ہے۔

آپ کی خدمات کے صلے میں آپ کو شاعرِاسلام اور شاعرِپاکستان کے خطابات سے نوازا گیا،اس کے علاوہ دیگر اعزازات میں انہیں ہلال امتیاز اور تمغۂ حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

آپ کا موضوع سخن فلسفہ اورحب الوطنی ہے آپ کی بچوں کیلئے لکھی تحریریں بھی بے حد مقبول ہیں۔

آپ غزلیہ شاعری میں کامل ویکتا تھے، 1925 میں ’نغمہ زار‘ کے نام سے حفیظ کا پہلا مجموعہ کلام شائع ہوا۔ ملکہ پکھراج کا گایا ہوا شہرہ آفاق گیت ابھی ’تو میں جوان ہوں‘ بھی اسی مجموعے میں شامل تھا۔

اس کے بعد سوزوساز، تلخابہ شیریں، چراغ سحر اور بزم نہیں رزم کے عنوانات سے ان کے مجموعہ ہائے کلام سامنے آئے۔

حفیظ جالندھری 21 دسمبر 1982 کو انتقال فرماگئے تھے ‘ اس وقت آپ کی عمر 82 سال تھی۔