'ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے': انمول پنکی کی عدالت میں چیخ و پکار
کراچی کے پوش علاقوں سے لے کر ملک بھر میں کوکین سپلائی کرنے والی بدنام زمانہ ملزمہ انمول عرف پنکی کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد اسے آج عدالت میں پیش کیا گیا۔ جہاں ملیر کورٹ نے مزید ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزمہ انمول پنکی کو جیل بھیج دیا۔ لیکن عدالت آمد پر ملزمہ نے پولیس پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے شدید چیخ و پکار کی۔
ہفتے کو کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں منشیات کیس کی نامزد ملزمہ انمول عرف پنکی کی پیشی کے موقع پر اس وقت شدید ہنگامہ آرائی اور شور شرابا دیکھا گیا جب ملزمہ نے پولیس پر زبردستی بیانات دلوانے اور جھوٹے مقدمات بنانے کے الزامات لگائے، جبکہ تفتیشی افسر نے اسے انتہائی شاطر قرار دیتے ہوئے نیٹ ورک کی تفصیلات عدالت کے سامنے رکھ دیں۔
پولیس نے میڈیا کو چکمہ دیتے ہوئے ملزمہ کو ججز گیٹ کے راستے اندر پہنچایا۔ عدالت میں آتے ہی ملزمہ نے میڈیا کو دیکھ کر چیخ و پکار شروع کر دی اور کہا کہ میرے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں، مجھے لاہور سے پکڑ کر لائے ہیں اور بیس دن سے غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے۔
ملزمہ نے پولیس پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مجھ پر بوری بھر بھر کر منشیات ڈالی گئی اور چھ آدمی مجھے گاڑی میں ڈال کر لائے، پھر پندرہ دن بعد پولیس کے حوالے کیا گیا۔ انمول نے کہا کہ مجھ سے زور زبردستی سے سیاسی اور دیگر لوگوں کے نام کہلوائے جا رہے ہیں اور پولیس اپنی مرضی کا بیان دلوانا چاہتی ہے۔
ملزمہ نے کہا کہ پولیس نے میرے گھر میں پہلے سے منشیات پلان کی تھی اور مجھ سے کہا تھا کہ جب ہم آئیں گے تو آپ نے مسکرا کر دروازہ کھولنا ہے۔ پنکی کا کہنا تھا کہ مجھے دھمکی دی جا رہی ہے کہ اگر بتائے گئے نام نہ لیے اور سب کچھ قبول نہ کیا تو میری فیملی کو اٹھا لیں گے اور نقصان پہنچائیں گے۔
اس دوران خاتون پولیس اہلکار نے ملزمہ کا منہ بند کرنے اور اسے چپ کروانے کی کوشش کی جس پر ان کی ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
بعدازاں، عدالت نے ملزمہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ آپ خاموشی سے بیٹھ جائیں، آپ کو بھی سنیں گے، یہ سٹی کورٹ ہے اور یہاں آپ کو کوئی ہراساں نہیں کرے گا۔ جج کے حکم پر ملزمہ کو پانی بھی پلایا گیا۔
دوسری طرف تفتیشی افسر نے ملزمہ کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ انتہائی شاطر ہے اور اب پکڑے جانے پر بیانات بدل رہی ہے۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزمہ پندرہ سال سے یہ نیٹ ورک چلا رہی ہے اور ہماری نسلوں کو تباہ کر رہی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ملزمہ نے گرفتاری اور قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے پنجاب میں ایک ڈی ایس پی سے بھی شادی کی، وہ اب تک تین شادیاں کر چکی ہے لیکن نادرا کے ریکارڈ میں انہیں چھپایا گیا ہے۔ اگر یہ لاہور کی ہے تو اس کے شناختی کارڈ پر اب تک کراچی کا ایڈریس کیوں ہے؟
پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ نے منشیات فروشی کا باقاعدہ ایک برانڈ بنایا ہوا ہے جس میں نائجیریا کے لوگ بھی شامل ہیں اور اس کے موبائل سے آٹھ سو خریداروں اور سہولت کاروں کی فہرست ملی ہے۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے ایزی پیسہ اور دیگر آن لائن ایپس کے ذریعے کروڑوں روپے کی منی لانڈرنگ کی جا رہی ہے، جس کا پرانا ڈیٹا ملزمہ کے سابقہ شوہر نے بلاک کر رکھا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت کے حکم پر اس کیس میں گرفتار دو دیگر ملزمان ذیشان اور سہیل کو بھی پیش کیا گیا۔ عدالت نے جب ان سے پوچھا کہ آپ دونوں کون ہیں اور کتنی ٹرانزیکشن کی ہے، تو ملزم سہیل نے بتایا کہ ہم دونوں بھائی ہیں۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان دونوں ملزمان نے ایزی پیسہ کے ذریعے کروڑوں روپے کا لین دین کیا ہے اور ملزمہ کی نشاندہی پر مزید منشیات بھی برآمد ہوئی ہے۔
عدالت نے تفتیشی افسر سے پرانے جوڈیشل آرڈرز طلب کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ نے ملزمہ سے اب تک کیا تفتیش کی ہے، جس پر پولیس نے بتایا کہ معائنے کے بعد ملزمہ پر مزید گیارہ مقدمات درج کیے گئے ہیں اور نیٹ ورک کے دیگر دو مفرور ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے ملزمہ کا ریمانڈ انتہائی لازمی ہے۔
سماعت کے دوران جب کچھ لوگ ملزمہ سے بات کرنے لگے تو تفتیشی افسر نے کہا کہ یہ وکیل ملزمہ سے بات کر رہے ہیں، جس پر ان افراد نے کہا کہ ہم سب وکیل ہیں، تاہم ملزمہ نے فوری طور پر کہا کہ یہ سب میرے وکیل نہیں ہیں، جس پر عدالت نے ملزمہ کو ہدایت کی کہ آپ صرف اپنے مقرر کردہ وکیل سے ہی بات کریں۔
اسی دوران سٹی کورٹ میں منشیات فروش پنکی کے خلاف عدالت نے 12 سے زائد مقدمات میں فیصلہ سناتے ہوئے بغدادی قتل کے مقدمے میں جسمانی ریمانڈ میں 2 دن کی توسیع کر دی جبکہ دیگر مقدمات میں عدالتی تحویل میں جیل بھیجنے کا حکم دیا گیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی اور ملزمہ کو بغدادی پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا۔
واضح رہے کہ دوران تفتیش ملزمہ نے ایسے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں جنہوں نے طاقتور حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ پنکی کے اعترافی بیانات میں شوبز اسٹارز سے لے کر ایوانوں میں بیٹھے سیاست دانوں تک کے نام منشیات کے خریداروں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
ملزمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے اہلکاروں کو ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے جبکہ درخشاں، گزری اور بوٹ بیسن تھانوں کے اہلکاروں کو بھی لاکھوں روپے رشوت دی۔
اس کے علاوہ ایک پولیس اہلکار کو راستے سے ہٹانے کے لیے اجرتی قاتل کی خدمات لینے پر بھی غور کیا گیا، اور منشیات چھپانے کے لیے وکلاء کے دفاتر اور چیمبرز کا استعمال کیا جاتا رہا۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزمہ کے نیٹ ورک کے تانے بانے ملک بھر اور بیرون ملک تک پھیلے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملزمہ سے ڈیڑھ کلو کوکین، نائن ایم ایم پستول اور کوکین تیار کرنے والا کیمیکل برآمد ہوا ہے۔
آزاد خان کے مطابق ملزمہ 2014 سے اس دھندے سے وابستہ ہے اور 2018 میں کراچی میں آن لائن نیٹ ورک کے ذریعے سرگرم ہوئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تفتیش کے دوران اس کے موبائل فون سے 869 نمبرز ملے ہیں اور ایک بینک اکاؤنٹ میں تین کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں۔
آزاد خان کے مطابق ملزمہ کے نو رائیڈرز میں سے آٹھ کا تعلق پنجاب سے ہے، اور پولیس نے نیٹ ورک سے جڑے چار اہم ناموں کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کی درخواست کر دی ہے۔
ملزمہ کے انکشافات کے بعد پنجاب پولیس بھی متحرک ہو گئی ہے اور لاہور پولیس نے کراچی پولیس سے رابطہ کر کے پنجاب کے ڈرگ ڈیلرز کی فہرستیں اور ریکارڈ مانگ لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق انمول پنکی کو 2024 میں لاہور میں نارکوٹکس یونٹ نے گرفتار کیا تھا اور سی آئی اے کوتوالی میں حراست کے دوران بعض پولیس افسران کے ساتھ اس کے مالی معاملات کے الزامات بھی سامنے آئے تھے۔
ملزمہ لاہور کے فارم ہاؤسز پر پارٹیاں منعقد کرتی تھی، تاہم وہاں کریک ڈاؤن کے بعد اس نے اپنی سرگرمیاں کراچی منتقل کر دی تھیں۔
اس معاملے پر سندھ اسمبلی میں بھی شدید بحث ہوئی ہے۔ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے مطالبہ کیا کہ پنکی کیس کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اس پورے ریکٹ کے پیچھے موجود گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا جائے۔
علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ منشیات کی وجہ سے خاندان تباہ ہو رہے ہیں اور اگر علاقے میں منشیات فروخت ہو رہی ہو تو متعلقہ ایس ایچ او اس سے لاعلم نہیں ہو سکتا۔
دوسری طرف وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنکی نیٹ ورک میں ہمارے کچھ ہیروز اور اداکار شامل ہیں، لیکن اس معاملے کو سیاسی ایشو نہ بنایا جائے کیونکہ منشیات کا مسئلہ پوری دنیا کا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے بھی واضح کیا کہ عدالت میں پنکی کو پروٹوکول دینے والے اہلکاروں کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے اور جیسے ہی تمام حقائق سامنے آئیں گے، اس نیٹ ورک میں شامل تمام بڑے ناموں کو بے نقاب کر دیا جائے گا۔


















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔