چین نے 200 بوئنگ طیارے خریدنے پر اتفاق کر لیا، صدر ٹرمپ کا دعویٰ

چین ایران کو جنگی ساز و سامان نہیں دے گا، آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد کی پیش کی ہے: امریکی صدر کا فاکس نیوز کو انٹرویو
شائع 14 مئ 2026 11:32pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے امریکی کمپنی بوئنگ سے 200 طیارے خریدنے پر اتفاق کر لیا ہے، جو تقریباً ایک دہائی بعد چین کی جانب سے امریکی ساختہ کمرشل طیاروں کی پہلی بڑی خریداری ہوگی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ چین ایران کو جنگی ساز و سامان نہیں دے گا، چین نے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد کی پیش کی ہے، آبنائے ہرمز کو کھلا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔

جمعرات کو امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے ملاقات کے دوران 200 بوئنگ طیاروں کے آرڈر پر رضا مندی ظاہر کی ہے، جو امریکی معیشت اور روزگار کے لیے اہم ثابت ہوگی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق بوئنگ کمپنی ابتدائی طور پر 150 طیاروں کے آرڈر کی خواہاں تھی تاہم مذاکرات کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 200 تک پہنچ گئی ہے، یہ معاہدہ ہزاروں نئی ملازمتوں کا سبب بن سکتا ہے اور امریکی ہوا بازی کی صنعت کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہوگا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ چین ایران کو فوجی ساز و سامان نہیں دے گا، چینی صدر ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ ہوتا دیکھنا چاہیں گے، صدر شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز کھولنے میں مدد کی پیشکش کی ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ چینی صدر نے کہا اگر ایران کے معاملے پر کوئی مدد کرسکتے ہیں تو وہ تیار ہیں، چین بہت سا تیل ایران سے خریدتا ہے اور وہ ایسا کرتا رہنا چاہے گا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ چین آبنائے ہرمز کو کھلا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس ممکنہ معاہدے کی مزید تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں جب کہ وائٹ ہاؤس نے بھی اس حوالے سے فوری تبصرہ نہیں کیا کہ آیا یہ آرڈر تمام اقسام کے طیاروں پر مشتمل ہوگا یا صرف مخصوص ماڈلز خریدے جائیں گے۔

دوسری جانب بوئنگ کمپنی نے بھی اس معاملے پر فوری ردعمل جاری نہیں کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا تھا کہ ٹرمپ کے دورۂ بیجنگ کے دوران بوئنگ کے بڑے آرڈر کا اعلان متوقع ہے، جہاں انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات بھی کی۔

ادھر ٹرمپ کے بیان نشر ہونے کے بعد بوئنگ کے شیئرز میں 4 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی۔ رپورٹس کے مطابق مارکیٹ میں اس سے قبل یہ توقعات گردش کر رہی تھیں کہ چین ممکنہ طور پر 500 یا اس سے زائد طیاروں کا آرڈر دے سکتا ہے۔

یہ ممکنہ معاہدہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔