نئی دہلی: برکس اجلاس میں عباس عراقچی کی یو اے ای پر تنقید، اسرائیل سے تعلقات پر نظرثانی کا مطالبہ

ایرانی وزیرِ خارجہ نے یو اے ای کو اسرائیل سے قربت اور ایران مخالف کارروائیوں میں ملوث قرار دیا
اپ ڈیٹ 14 مئ 2026 04:09pm

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے نئی دہلی میں جاری ’برکس‘ وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران متحدہ عرب امارات پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ کے مطابق ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو اجلاس کے پہلے روز متحدہ عرب امارات کے نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای ایران کے خلاف ہونے والی جارحیت میں براہِ راست شریک رہا ہے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ’میں نے اپنے بیان میں متحدہ عرب امارات کا نام نہیں لیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یو اے ای میرے ملک کے خلاف جارحیت میں براہِ راست ملوث تھا۔ جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو یو اے ای نے مذمت تک نہیں کی‘۔ ان کا یہ بیان اماراتی نمائندے کے ریمارکس کے جواب میں سامنے آیا۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اجلاس کے دوران اماراتی ہم منصب کو متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر نظرِ ثانی کا بھی مشورہ دیا۔

انہوں نے اماراتی ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل کے ساتھ آپ کا اتحاد بھی آپ کو تحفظ فراہم نہیں کر سکا، بہتر یہی ہے کہ آپ ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کریں‘۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات خطے میں مزید عدم استحکام اور کشیدگی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

تاحال متحدہ عرب امارات کی جانب سے ان الزامات یا ایرانی وزیرِ خارجہ کے بیانات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس کا آج پہلا روز ہے۔ جس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ سمیت تنظیم کے نئے رکن ممالک کے سفارتکار شریک ہیں۔

یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران میں جاری جنگ نے عالمی توانائی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی معیشت میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق اجلاس کے دوران ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے برکس ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت کی مذمت کریں۔

انہوں نے کہا کہ تنظیم کے رکن ممالک کو اس جنگ کو روکنے میں کردار ادا کرنا چاہیے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ یقینی بنانا چاہیے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران رکن ممالک کی حمایت کو سراہتا ہے، تاہم مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی عالمی اداروں کو سیاست زدہ ہونے سے روکنا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ ضروری ہے کہ ہم سب امریکا کی بالادستی اور استثنیٰ کے تصور کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں، جو آج کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں رکھتا‘۔

واضح رہے کہ ’برکس‘ ابھرتی ہوئی بڑی معیشتوں کا ایک اتحاد ہے جو عالمی اداروں میں مغربی طاقتوں کے اثر و رسوخ کے مقابلے میں ’گلوبل ساؤتھ‘ کی اصطلاح کے ساتھ سیکیورٹی و معاشی پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

ابتدا میں اس میں برازیل، روس، بھارت اور چین شامل تھے، تاہم 2010 میں جنوبی افریقہ کی شمولیت سے یہ برکس بن گیا، جو ان 5 ملکوں کے ناموں کے پہلے حروف سے مل کر بنا ہے۔ 2023 میں اس اتحاد میں مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہوئے تھے، جب کہ انڈونیشیا نے جنوری 2025 میں اس گروپ میں شمولیت اختیار کی۔

تاہم اس اتحاد کے اجلاسوں کے دوران رکن ممالک کے درمیان اختلافات بھی نمایاں رہے ہیں۔ بھارت اور چین کے درمیان علاقائی اثر و رسوخ کی مسابقت جاری ہے، جبکہ یوکرین جنگ اور اب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی نے ان اختلافات کو مزید واضح کر دیا ہے، خاص طور پر ایران اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک جو ایک ہی تنظیم کے رکن ہونے کے باوجود مختلف علاقائی مفادات رکھتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے برکس ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اجلاس کے دوران امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف مشترکہ مؤقف اپنانے کے لیے رکن ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرے۔

حالیہ اجلاس میں برکس ممالک کے اندرونی اختلافات اس وقت مزید نمایاں ہوئے جب بدھ کے روز ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ ’برکس‘ کا رکن ہمسایہ ملک اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ملک امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران کے دفاعی حملوں کے خلاف بیان برکس کے مشترکہ اعلامیے میں شامل کروانا چاہتا ہے۔

برکس اجلاس میں ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی تلخی اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ تنظیم کے اندر امریکا، اسرائیل اور خلیجی صورت حال پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنا آسان نہیں ہوگا۔