شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ نے دورے کو کامیاب قرار دے دیا، ایران اور تائیوان پر اختلافات برقرار

بیجنگ نے واشنگٹن کو تائیوان کے معاملے میں احتیاط برتنے کا انتباہ دیا
اپ ڈیٹ 15 مئ 2026 02:22pm

چین کے صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ مذاکرات کو کامیاب قرار دیا ہے، تاہم ایران اور تائیوان کے معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ ملاقات کے دوران اگرچہ مثبت پیش رفت کے دعوے کیے گئے، لیکن بنیادی عالمی تنازعات پر واضح پالیسی فرق سامنے آیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر جمعہ کو چین کا دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے تجارتی معاہدوں کو نمایاں کیا، تاہم یہ معاہدے عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے زیادہ پرکشش ثابت نہیں ہو سکے۔

دوسری جانب بیجنگ نے واشنگٹن کو تائیوان کے معاملے میں احتیاط برتنے کا انتباہ دیا اور کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کبھی شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔

دورے کے دوسرے روز ٹرمپ نے چینی قیادت کے ساتھ ژونگ نانہائی کے تاریخی باغ کا بھی دورہ کیا۔ آخری ملاقات اسی مقام پر ہوئی، جہاں ٹرمپ نے شی جن پنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک شاندار دورہ رہا ہے، اور مجھے لگتا ہے کہ اس سے بہت کچھ مثبت سامنے آیا ہے۔

تاہم اسی ملاقات سے کچھ دیر قبل چین کی وزارت خارجہ نے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ تنازعہ کبھی شروع ہی نہیں ہونا چاہیے تھا اور اسے جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق چین امن معاہدے کی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے، کیونکہ یہ جنگ توانائی کی سپلائی اور عالمی معیشت پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔

ژونگ نانہائی میں ہونے والی ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ایران کے معاملے پر بات کی اور ان کے خیالات کافی حد تک ”مشابہ“ تھے، تاہم شی جن پنگ نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ٹرمپ سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ چین پر زور دیں گے کہ وہ ایران کے ساتھ تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے کسی معاہدے تک پہنچنے میں کردار ادا کرے، تاہم ماہرین کو اس حوالے سے شک ہے کہ بیجنگ تہران پر سخت دباؤ ڈالے گا۔

برکنگز انسٹیٹیوشن کی خارجہ پالیسی فیلو پیٹریشیا کم کے مطابق ”اہم بات یہ ہے کہ چین کی جانب سے ایران کے حوالے سے کسی مخصوص اقدام کی کوئی واضح یقین دہانی سامنے نہیں آئی۔“

رپورٹ کے مطابق چین کے لیے ایران اسٹریٹجک اعتبار سے امریکا کے خلاف ایک اہم توازن کے طور پر اہمیت رکھتا ہے، جس کے باعث بیجنگ کے سخت مؤقف اختیار کرنے کے امکانات کم سمجھے جا رہے ہیں۔