چینی صدر اور میری سوچ کافی یکساں ہے، دونوں ایران جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق معاملات پر ان کی اور چینی صدرشی جن پنگ کی سوچ کافی حد تک یکساں ہے اور دونوں رہنما خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے چینی صدر سے ایران کی صورتحال پر گفتگو کی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ایران کے معاملے پر بہت حد تک ایک جیسا مؤقف رکھتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ یہ تنازع ختم ہو۔ ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہو، اور ہم چاہتے ہیں کہ آبنائے کھلی رہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ خطے کی صورتحال کافی حد تک پاگل پن کی شکل اختیار کر چکی ہے اور یہ صورتحال کسی طور قابل قبول نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ ختم ہو کیونکہ وہاں حالات غیر معمولی اور خطرناک ہوتے جا رہے ہیں، یہ جاری نہیں رہ سکتا۔”
دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ نے جمعہ کی صبح اپنے بیان میں کہا تھا کہ خطے میں بحری تجارتی راستوں کو جلد از جلد دوبارہ کھولا جانا چاہیے۔
چینی وزارت خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران جنگ کبھی شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دورۂ چین کے موقع پر کہا کہ چین ایران کو فوجی ساز و سامان نہیں دے گا، آبنائے ہرمز کو کھلا ہوا دیکھنا چاہتا ہے، چین نے 200 بوئنگ جیٹس آرڈر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی چینل کو انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چینی صدر ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ ہوتا دیکھنا چاہیں گے، اس کے علاوہ امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز کھولنے میں مدد کی پیشکش کی ہے۔












