پنکی کے جسمانی ریمانڈ میں 4 روز کی توسیع، اہم شخصیات کے نام لینے کی کوشش پر جیل میں ہنگامہ

ملزمہ پنکی کو جب پیشی کے لیے عدالت لایا گیا تو ایک بار پھر ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی۔
اپ ڈیٹ 18 مئ 2026 06:36pm

کراچی میں منشیات کے مبینہ منظم نیٹ ورک کی سربراہ ملزمہ انمول عرف پنکی کا کیس سٹی کورٹ کے بجائے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر سینٹرل جیل میں قائم عدالت میں سماعت کے لیے منتقل کیا گیا، جہاں عدالت نے ملزمہ پنکی کے جسمانی ریمانڈ میں 4 روز کی توسیع کر دی۔ ملزمہ پنکی کو جب پیشی کے لیے عدالت لایا گیا تو ایک بار پھر ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی۔

جوڈیشل کمپلیکس میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے انمول عرف پنکی کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ملزمہ کو مزید چار روز کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ ملزمہ کو بغدادی تھانے میں درج قتل کے مقدمے میں پیش کیا گیا تھا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق دورانِ سماعت ملزمہ کی جانب سے یہ شکایت بھی سامنے آئی کہ اسے مرد اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب وکلا صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ کو جسمانی ریمانڈ پر دینے کے بجائے جوڈیشل کسٹڈی میں بھیجا جائے، کیونکہ ریمانڈ کی صورت میں اسے مزید جھوٹے مقدمات میں بھی شامل کیے جانے کا خدشہ ہے۔ وکلا نے یہ بھی کہا کہ مدعی مقدمہ کا مقتول سے کوئی خونی رشتہ نہیں اور ملزمہ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنے بیان میں سیاسی شخصیات، اداکاروں اور بااثر افراد کے نام لے۔

وکلا صفائی نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمہ کا طبی معائنہ کرایا جائے اور اسے جیل منتقل کیا جائے۔

دوسری جانب سرکاری وکیل شکیل عباسی نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ مقدمے میں نامزد ہے اور ایف آئی آر کے متن میں اس کا واضح ذکر موجود ہے۔ ان کے مطابق مقتول سے برآمد ہونے والی منشیات کو کیمیکل ایگزامن کے لیے بھجوا دیا گیا ہے جب کہ مقتول کے موبائل فون کو بھی فرانزک کے لیے بھیجا گیا ہے۔ سرکاری وکیل نے مزید کہا کہ ملزمہ کا موبائل نمبر بھی شواہد میں موجود ہے۔

سرکاری وکیل کے مطابق مدعی مقدمہ سوشل ورکر ہے اور اس کا بیان دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیا جانا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملزمہ منشیات کی فروخت اور سپلائی کے کاروبار میں ملوث ہے، جو مبینہ طور پر مختلف رائیڈرز، جن میں فوڈ پانڈا اور بائیکیا شامل ہیں، کے ذریعے کی جاتی تھی۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ اس سے قبل ایس آئی یو کیس میں 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ پر ہے اور وہ سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے باعث مزید تفتیش درکار ہے۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ ریکارڈ کے مطابق ملزمہ مقدمے میں نامزد ہے، اس لیے اسے مزید چار روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا جاتا ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ تفتیش لیڈی پولیس افسر کی موجودگی میں کی جائے اور ملزمہ کا طبی معائنہ خاتون میڈیکل آفیسر سے کرایا جائے۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ تفتیشی افسر ملزمہ کو 22 مئی کو دوبارہ عدالت میں پیش کرے اور آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی جمع کرائے۔

دوسری جانب انمول عرف پنکی کی حساس مقدمے کی سماعت کے موقع پر پولیس نے میڈیا کو گالیوں اور دھکوں سے نوازا۔ سماعت کے دوران میڈیا کو کوریج کرنے سے روک دیا گیا۔

ادھر، پنکی کا عدالت کے سامنے کہنا تھا مجھے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، سرکاری وکیل نے کہا ملزمہ انتہائی شاطر ہے، ملزمہ سے برآمد ہونے والی منشیات معائنے کے لیے بھیج دی گئی ہے۔ عدالت نے ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت جیل منتقل کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

سیشن جج کراچی ساؤتھ ظہور احمد ہکڑو نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ ملزمہ کو درپیش ممکنہ سیکیورٹی خطرات اور غیر معمولی صورتحال کے باعث یہ حساس مقدمہ جیل کورٹ منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

پولیس کے مطابق ملزمہ کے خلاف تھانہ بغدادی میں دفعہ 302 کے تحت قتل کا مقدمہ نمبر 147/2026 درج ہے، جبکہ وہ دیگر سنگین مقدمات میں بھی مطلوب ہے۔ ملزمہ کو جب جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبروپیش کرنے کے لیے جیل کورٹ لایا گیا تو وہاں شدید ہنگامہ آرائی دیکھی گئی۔

ملزمہ نے عدالت میں کچھ اہم اور اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کے نام لینے کی کوشش کی، تو وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر شور مچا کر ملزمہ کی آواز کو دبا دیا، جبکہ صحافیوں کو بھی عدالتی کارروائی کی کوریج کے لیے اندر جانے سے روک دیا گیا۔

اس سے قبل جب ملزمہ کو پہلی بار پیش کیا گیا تھا تو پولیس میڈیا کو چکمہ دیتے ہوئے اسے ججز گیٹ کے راستے اندر لائی تھی، جہاں ملزمہ نے میڈیا کو دیکھ کر چیخ و پکار شروع کر دی تھی۔

ملزمہ انمول عرف پنکی نے پولیس پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا تھا کہ میرے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں، مجھے لاہور سے پکڑ کر لائے ہیں اور بیس دن سے غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا تھا کہ یہ سب کچھ ان کا سابقہ شوہر کروا رہا ہے۔

ملزمہ کا کہنا تھا کہ مجھ پر بوری بھر بھر کر منشیات ڈالی گئی تھی اور چھ آدمی مجھے گاڑی میں ڈال کر لائے، پھر پندرہ دن بعد پولیس کے حوالے کیا گیا۔ ان کے مطابق مجھ سے زور زبردستی سے سیاسی اور دیگر لوگوں کے نام کہلوائے جا رہے ہیں اور پولیس اپنی مرضی کا بیان دلوانا چاہتی ہے۔

ملزمہ نے عدالت کے باہر کھلم کھلا یہ دعویٰ بھی کیا کہ مجھے کہا جا رہا ہے بنی گالا کے بندے کا نام لو۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے میرے گھر میں پہلے سے منشیات پلان کی تھی اور مجھ سے کہا تھا کہ جب ہم آئیں گے تو آپ نے مسکرا کر دروازہ کھولنا ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ مجھے دھمکی دی جا رہی ہے کہ اگر بتائے گئے نام نہ لیے تو میری فیملی کو اٹھا لیں گے اور نقصان پہنچائیں گے۔ اس دوران بھی جب خاتون پولیس اہلکار نے ملزمہ کا منہ بند کرنے کی کوشش کی تو ان کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے ملزمہ کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ انتہائی شاطر ہے اور اب پکڑے جانے پر بیانات بدل رہی ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ پندرہ سال سے یہ نیٹ ورک چلا رہی ہے اور ہماری نسلوں کو تباہ کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ کراچی پولیس اور ایک سویلین حساس ادارے نے مشترکہ کارروائی میں انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بارے میں حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ شہر میں منشیات کی سپلائی کا ایک بڑا اور منظم نیٹ ورک چلا رہی تھی اور طویل عرصے سے مفرور تھی۔