سانحہ بلدیہ ٹاون فیکٹری کاچالان منظور، مقدمہ انسداد دہشتگردی عدالت منتقل

شائع 05 ستمبر 2016 10:31am
فائل فوٹو فائل فوٹو

کراچی:انسداددہشت گردی کی منتظم عدالت نے سانحہ بلدیہ ٹاون فیکٹری کا ضمنی چالان منظورکرتے ہوئے مقدمہ انسدادہشت گردی عدالت نمبر2 بھیج دیا۔

انسداددہشت گردی کی منتظم عدالت میں اسپیشل پبلک پراسیکیوٹراورتفتیشی افسر ایس پی ساجد سدوزئی نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا ضمنی چالان پیش کیا۔

چالان کے مطابق ،جے آئی ٹی کی سفارشات کی روشنی میں مقدمےمیں دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی۔

چالان میں کہاگیا ہے کہ ایم کیو ایم کےحماد صدیقی نے فیکٹری مالکان سے 25 کروڑ روپے بھتہ اورفیکٹری منافع میں حصہ داری کا مطالبہ کیا تھا۔جس پرمالکان نے ایک کروڑ روپےدینے پررضامندی ظاہر کی تھی تاہم 11 ستمبر 2012 کوحماد صدیقی نے رحمان بھولا اوردیگرملزمان کے ذریعے فیکٹری کو آگ لگوائی،واقعے میں 259 مرد وخواتین جاں بحق ہوگئےتھے۔

انیس قائم خانی کےقریبی ساتھی علی حسن قادری نے فیکٹری مالکان سے معاملات طے کرانے کیلئے 5 کروڑ98 لاکھ روپے وصول کئے۔

پولیس نے چالان میں 58 گواہوں کو نامزد کیا جبکہ حماد صدیقی رحمان عرف بھولا ودیگرکومفرور قراردیاگیاہے۔