ایران سے نمٹنے کے لیے امریکا کو چین کی مدد کی ضرورت نہیں: صدر ٹرمپ

یا تو ایران درست فیصلہ کرے گا یا پھر امریکا خود معاملہ مکمل کرے گا۔: امریکی صدر کی میڈیا سے گفتگو
اپ ڈیٹ 13 مئ 2026 12:04am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات صرف اسی صورت میں آگے بڑھیں گے جب معاہدہ امریکا کے مفاد میں ہو۔ ان کے مطابق ایران کے فوجی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے جب کہ بندرگاہوں کی ناکا بندی 100 فی صد مؤثر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کو ایران سے نمٹنے کے لیے چینی صدر یا کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا سب سے بڑی ترجیح ہے۔

صدر ٹرمپ نے دورہ چین سے قبل وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے معاملے میں امریکا کے پاس واضح انتخاب تھا، یا تو ایسے عناصر کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے دیا جائے یا اس عمل کو روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی ایران کو جوہری ہتھیار دینے کے حق میں ہوگا وہ غیر دانش مندانہ سوچ رکھتا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ صرف ایک اچھا اور فائدہ مند معاہدہ کرے گا اور اس سے کم کسی چیز کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران کا فوجی ڈھانچہ شدید نقصان کا شکار ہے اور تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

انہوں نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ وہ یہ نہیں بتائیں گے کہ بات چیت کب ختم ہوگی، تاہم ان کے مطابق امریکا ایسے معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے جو امریکی عوام کے لیے فائدہ مند ہوگا، جب کہ ان کے خیال میں اس کے اثرات ایرانی عوام کے لیے بھی مثبت ہو سکتے ہیں۔

معاشی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جیسے ہی یہ جنگ ختم ہوگی، تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور اسٹاک مارکیٹ جو پہلے ہی تاریخی سطح پر ہے مزید اوپر جائے گی۔ انہوں نے سابق صدر جو بائیڈن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھی، جب کہ موجودہ صورتِ حال میں افراطِ زر نسبتاً کم ہے۔

ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ شی جن پنگ کے حوالے سے کہا کہ وہ ایران کے معاملے میں نسبتاً مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا اور چین کی آئندہ ملاقات میں ایران سمیت دیگر امور پر تفصیلی بات ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کو ایران کے معاملے میں چین یا کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں ہے اور یا تو ایران درست فیصلہ کرے گا یا پھر امریکا خود معاملہ مکمل کرے گا۔

ان کے مطابق امریکا صرف ایک اچھا معاہدہ چاہتا ہے اور صورتِ حال کا نتیجہ کسی نہ کسی صورت امریکا کے حق میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اصل پیغام بالکل واضح ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

امریکی صدر نے گفتگو کے دوران ایک بار پھر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کا ذکر کیا، صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کوبہترین شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان مذاکراتی عمل میں شاندار رہا۔