سپریم کورٹ کاکراچی کےتمام غیرقانونی ہائیڈرنٹس بند کرنےکا حکم
فائل فوٹوکراچی:سپریم کورٹ نے کراچی کے تمام غیرقانونی ہائیڈرنٹس بند کرنے اورایمرجنسی ضروریات کیلئے ہائیڈرنٹس کو ری ٹینڈر کرنے کا حکم دیدیا۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں غیرقانونی واٹرہائیڈرنٹس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ایم ڈی واٹربورڈ نےعدالت کوبتایاکہ 6 اضلاع میں این ایل سی اورڈی ایچ اےکیلئےایک ایک واٹرہائیڈرنٹس رکھےجائیں گے۔
عدالت نے شہرمیں تمام غیرقانونی واٹرہائیڈرنٹس بند کرنےاورہنگامی ضروریات کیلئے واٹرہائیڈرنٹس کو5ہفتوں میں ری ٹینڈرکرنےکاحکم جاری کردیا ۔
دوران سماعت چیف جسٹس نےریمارکس دیئےکہ وہ 2001 سےڈیفنس میں رہائش پذیرہیں آج تک لائن سے پانی نہیں ملا،ڈیفنس کےن90 فیصدمکین پانی خریدنے پرمجبورہیں ۔
عدالت نےریمارکس دیئے کہ واٹربورڈ پانی فراہم نہیں کرتا توکے ایم سی کچرااٹھانے کوتیارنہیں،دونوں اداروں میں بڑی تعدادمیں گھوسٹ ملازمین ہیں جوگھربیٹھے تنخواہیں لےرہے ہیں ۔
جسٹس امیرہانی مسلم ریمارکس دیئےکہ واٹربورڈ پانی فراہم نہیں کرسکتا توٹھیکے پردیدیا جائے۔وال مینوں کےذریعے شہرکا پانی کنٹرول ہوتاہے۔
عدالت کے ریمارکس تھے کہ اول توپانی پہنچتا ہی نہیں اورجہاں پہنچتا ہےوہاں آلودہ پانی پہنچتا ہے،شہری کب تک پانی کیلئے ترسیں گے،پانی کی فراہمی عدالت کام نہیں تاہم عوامی مفاد کیلئے مداخلت کرناپڑتی ہے۔شہرمیں کنٹونمنٹ بورڈ ڈی ایچ اے سمیت بڑے بڑے سفید ہاتھی بیٹھے ہیں۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔