اقتصادی راہداری ،مغربی روٹ پر پہلے کام کا مطالبہ
اسلام آباد:اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر پہلے کام کیا جائے،اکنامک زون اور بجلی کے منصوبوں کو چھوٹے صوبوں میں بھی شروع کیا جائے، گوادر میں ڈیموگرافک تبدیلی کے خطرے کے پیش نظر اسے قانونی تحفظ دیا جائے۔
اسلام آباد میں پاکستان چین اقتصادی راہداری پر آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت ایک جانب اور دیگر تمام جماعتیں دوسری جانب کھڑی ہیں۔اے پی سی میں راہداری کے حوالے سے دل کھول کر شکوے کئے گئے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا کہ حکومت چھوٹے صوبوں کو نظر انداز کررہی ہے،کچھ نہیں بتا رہی کہ کون سے منصوبے لگ رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ چینی سفیر سے بات چیت ہوئی لیکن یہ نہیں بتا سکتا کہ انہوں نے کیا کہا۔اے این پی کے رہنما میاں افتخارحسین نے کہا کہ احسن اقبال کی بریفنگ کو کئی مرتبہ مسترد کیا جائے چکا ہے پہلی اے پی سی میں بھی راہداری کا بیک گراو¿نڈ نہیں بتایا گیا۔
میر حاصل بزنجو نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل دیگر صوبوں سے مختلف ہیں،انہوں نے کہا کہ ہمارا تشخص نہیں مٹنا چاہئے،گوادر میں ڈیموگرافک تبدیلی کا خدشہ ہے۔قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاو¿ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسائل حل ہونے چاہئے۔سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا کہ کسی کو نہیں معلوم کہ حکومت کی ترجیحات ہیں کیا۔
ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ صوبوں کے ساتھ ناانصافیوں کا تدارک ہونا چاہئے۔گوادر کی ڈیموگرافی تبدیلی ہونے کا خدشہ ہے تو قانونی شکل دینی چاہے۔اپوزیشن رہنماو¿ں کا کہنا تھا کہ مغری روٹ پر سب سے پہلے کام کیا جانا چاہئے تاکہ چھوٹے صوبوں کے تحفظات دورہوسکیں۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔