جن کا خیال ہے آفس ورکنگ آسان ہے تو وہ اسے ضرور پڑھیں۔۔

شائع 10 اگست 2017 08:57am

chair

عام طور پر لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ آفس میں کام کرنا سب سے کم مشکل اور کم نقصان دہ ہوتا ہے جبکہ ڈاکٹرز کا خیال بالکل اس کے برعکس ہے۔ آج ہم آپ کو وہ خطرناک عوامل بتانے جا رہے ہیں جن کا آفس ورکرز کو سامنا ہوتا ہے۔

تو آئیے جانتے ہیں کہ آفس میں کام کرنے والے افراد کو کن مشکلات کا سامنا ہوتا ہے یا ان کی صحت کو کن چیزوں سے خطرہ ہوتا ہے۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں آفس ورکرز ایک ہی جگہ اپنی کرسی پر بیٹھ کر پورا دن کام کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے عام لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ یہ مشکل کام نہیں ہے لیکن حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے۔ جب کوئی انسان ایک ہی جگہ گھنٹوں بیٹھتا ہے تو جسم کے مختلف اعضاء کے پٹھے کام کرنا بھول جاتے ہیں اور ان کا ورک لوڈ بھی کچھ اعضاء پر منتقل ہوجاتا ہے جس کا بوجھ بھی انہی اعضاء کو اٹھانا پڑتا ہے۔

chair

اسی لئے ڈاکٹرز اس بات کا مشورہ دیتے ہیں کہ آفس میں کام کرنے والے افراد کو ہر دو گھنٹے بعد 5 سے 15 منٹ تک کے لئے اپنی سیٹ سے اٹھ کر چہل قدمی کرنی چاہیئے تاکہ اعضاء کو کام کرنا یاد رہے۔

legs

اس کے علاوہ کرسی پر گھنٹوں بیٹھنے والے شخص کو کمر، بیضہ دانی اور ٹانگوں میں شدید درد کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ انسان کا جسم ایک ایسے پیچیدہ نظام پر مشتمل ہوتا ہے کہ اگر جسم کے کسی ایک حصے میں بھی درد ہوتو پورا جسم اس درد کو محسوس کرتا ہے۔ اسی لئے اگر انسان کے کسی عضو میں تکلیف ہوتو وہ یکساں طور پر جسم کو حرکت نہیں دے پاتا جس کی وجہ سے جسم کے اس حصے کا لوڈ بھی دوسرے حصے کو اٹھانا پڑتا ہے جو انتہائی حساس صورتحال بھی اختیار کرسکتا ہے۔

hips

اس کے علاوہ مسلسل بیٹھے رہنے سے آپ کی بیضہ دانی بھی متاثر ہوتی ہے جس طرح تصویر میں بھی دکھایا گیا ہے۔ چونکہ ٹانگوں کا وزن بھی آپ کے ہِپس پر ہی آجاتا ہے تو اس بھی پٹھوں کو بے حد نقصان پہنچتا ہے۔

اسی لئے آفس ورکرز کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد اپنی کرسی سے اٹھ کر تھوڑا چل لیا کریں یا کچھ دیر کھڑے ہوجائیں ایسا کرنے سے آپ کے پٹھے ڈیڈ نہیں ہوں گے اور جسم کے دوسرے اعضاء بھی متاثر نہ ہوں گے۔

بشکریہ: برائٹ سائیڈ