موت کے منہ سے بال بال بچ کر آنیوالے بولی وڈ اداکار

شائع 28 دسمبر 2017 03:38pm

salman

موت ایک اٹل حقیقت ہے اور ہر کسی کو کسی نہ کسی دن اسکا مزا چکھنا ہی ہے ، تاہم ایسے بھی بولی وڈ اسٹارز ہیں جو کہ یا تو نہایت علیل ہوئے یا شوٹنگ کے دوران شدید زخمی ہوئے جس کے باعث ان کا بچنا محال ہوگیا تاہم اب یہ بولی وڈ اسٹارز صحت یاب ہوکر صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔ ذیل میں موت کے منہ سے بال بال بچنے والے بولی وڈ اداکار بیان کیے گئے ہیں۔

hirthik

ہرتیک روشن

بولی وڈ سپر اسٹار ہرتیک روشن کا شماربھی ان بولی وڈ اسٹارز میں ہوتا ہے جو کہ موت کے منہ سے بچ کر آئے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اپنی فلم بینک بینگ کی شوٹنگ کے دوران ہرتیک روشن بری طرح زخمی ہوگئے اور انکے دماغ پر چوٹ آئی جس کے لئے ان کو ممبئی میں ایک ہسپتال میں بھی داخل کرایا گیا جہاں پر ان کا کامیاب آپریشن ہوا۔

manisha

منیشا کوئرالہ

دوہزار بارہ میں منیشا کوئرالہ کے کینسر میں مبتلا ہونے کی تشخیص ہوئی جس کے بعد ان کو علاج کیلئے امریکا لے جایا گیا اور وہ اب مکمل طور پر صحت یاب ہیں ۔

saif

سیف علی خان

دوہزار سات میں ایک ایوارڈ فنکشن کے دوران سیف علی خان کو دل کا دورہ پڑا اور جس کی وجہ سے ان کو ہسپتال بھی لے جانا پڑا تاہم بعد میں وہاں پر علاج کے بعد وہ واپس صحت یاب ہوکر گھر واپس آگئے۔

lizaray

لیزا رے

لیزا رے کا شمار بھی بولی وڈ اداکاراوں میں ہوتا ہے ، ان کو بھی دوہزار نو میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا علاج کرایا اور اب وہ صحت مند زندگی گزار رہی ہیں۔

rajni

رجنی کانتھ

رجنی کانتھ بھی بولی وڈ اسٹارز میں ہی شمار ہوتے ہیں، تاہم وہ بھی موت کے منہ سے بال بال بچ چکے ہیں۔ ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران ان کو سانس کی سخت تکلیف ہوئی اور بخار چڑھ گیا جس کے بعد ان کو سنگاپور علاج کیلئے جانا پڑا تاہم اب وہ بالکل صحت مند ہیں۔

mumtaz

ممتاز

نوے کی دہائی کی مشہور اداکارہ ممتاز کو بھی کینسر کی تشخیص ہوئی تھی تاہم وہ اب بھی تاحیات ہیں اور علاج کے بعد صحت مند زندگی گزار رہی ہیں۔

amitabh

امیتابھ بچن

ایک شوٹنگ کے دوران بولی وڈ شہنشاہ امیتابھ بچن بھی شدید زخمی ہوگئے تھے اور ان کو طبی طور پر مردہ قرار دے دیا گیا تھا لیکن بعد میں وہ اچانک صحت مند ہوگئے اور اب اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔

salman

سلمان خان 

دوہزار گیارہ میں سلمان خان کو فیشل نروز ڈس آرڈر جس میں انسان کا چہرہ کمزور یا پھر فالج کا شکار ہوجاتا ہے کا سامنا کرنا پڑا تاہم وہ اس مرض سے کافی حد تک نکل چکے ہیں لیکن  ان کا علاج اب بھی اس حوالے سے جاری ہے۔