اپنے چہرے کے لئے بہترین چشمے کا انتخاب کیسے کریں؟

شائع 29 مارچ 2018 07:34am

glasses

ایک سروے کے مطابق چہرے پر لگے چشمے  سے آپ کی شخصیت 75 فیصد ذیادہ پرکشش نظر آتی ہے۔ کیا آپ بھی ایک نیا چشمہ بنوانے کا ارادہ رکھتے ہیں، مگر اس بات سے پریشان ہیں کہ چشمے کا صحیح انتخاب کیسے کریں؟

آج ہم آپ کو چند اصول بتائیں گے جن کے ذریعہ آپ اپنے چہرے کے حساب سے بہترین چشمہ منتخب کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ ان اصولوں کے تحت آپ اپنے چہرے کی بناوٹ کی پہچان کرسکتے ہیں۔

عمومی طور پر چہرے کی بناوٹ 6 طرح کی ہوتی ہے۔ مستطیل، بیضوی، گول، ہارٹ شیپ، چوکور اور ڈائمنڈ شیپ۔ بناوٹ کی اقسام میں فرق صرف شیشہ دیکھنے سے نہیں پتہ چلتا۔ چہرے کی پیمائش سے یہ فرق سمجھ میں آتا ہے۔ نیچے بتائے گئے طریقے سے یہ پیمائش کی جاسکتی ہے۔

پیمائش کے فیتے یا میژرِنگ ٹیپ سے اپنے چہرے کو ناپیں۔ خیال رہے کہ اسے بلکل سیدھا رکھنا ہے اور چہرے کی بناوٹ کے حساب سے موڑنا نہیں ہے۔ سب سے پہلے اپنے ماتھے کی چوڑائی ناپیں۔ پھر گال اور جبڑے کو بھی چوڑائی میں ناپیں۔ آخر میں چہرے کی لمبائی ناپیں۔

٭ مستطیل

اگر چہرہ لمبائی میں چوڑائی سے ذیادہ ہے تو یہ چہرہ مستطیل کہلاتا ہے۔ اس چہرے میں ماتھا، گال اور جبڑا تینوں ایک جتنے چوڑے ہوتے ہیں۔

اس چہرے پر بڑے اور چوڑے فریم کے چشمے لگانے چاہیئں۔ چشموں کا فریم بھی موٹا اور واضح ہونا چاہیئے۔

٭ بیضوی

یہ چہرہ بھی لمبائی میں چوڑائی سے ذیادہ ہوتا ہے۔ اس چہرے میں ماتھا جبڑے سے تھوڑا سا ذیادہ چوڑا ہوتا ہے۔

اس چہرے پر وہ چشمے اچھے لگتے ہیں جن کے فریم اوپر کی طرف سے موٹے ہوں۔

٭ گول

یہ چہرہ اتنا ہی لمبا ہوتا ہے جتنا چوڑا ہوتا ہے۔ ماتھا اور جبڑا دونوں تھوڑے پتلے ہوتے ہیں لیکن ایک ہی تناسب میں ہوتے ہیں۔

گول چہرے پر چوکور اور مستطیل چشمے اچھے لگتے ہیں۔

٭ ہارٹ شیپ

اس چہرے پر جبڑے کے کونے نکلے ہوتے ہیں۔ جبکہ گال چوڑے ہوتے ہیں۔ ماتھا گالوں کی بانسبت ذیادہ چوڑا ہوتا ہے۔

اس چہرے پر ایوی ایٹرز یا وہ چشمے جو نیچے کی طرف سے نوکیلے ہوں، اچھے لگتے ہیں۔ بغیر فریم والے چشمے بھی اس چہرے پر جچیں گے۔

٭ چوکور

اس چہرے کی لمبائی اور گالوں کے بیچ کا فاصلہ تقریباً یکساں ہوتا ہے۔ جبڑے، گال اور ماتھے کی ایک ہی چوڑائی ہوتی ہے۔

گول کناروں والے بیضوی یا چوکور چشمے اس چہرے کے لئے مناسب ہیں۔

٭ ڈائمنڈ شیپ

 یہ چہرہ ماتھے پر سے تھوڑا پتلا ہوتا ہے۔ جبکہ جبڑا چوڑا اور تھوڑی نوکیلی ہوتی ہے۔

اس چہرے پر بھی گول کناروں والے چشمے استعمال کرنے چاہیئں۔ لیکن ان کی چوڑائی گالوں کی چوڑائی سے باہر نہیں ہونی چاہیئے۔

Thanks to Brightside