لفاظی کام نہیں آسان ، اچھے اچھوں کی ہوجاتی ہے چھٹی

چرب زبان ہونا بھی ایک فن ہے ۔ ہر کوئی اس فن پر عبور نہیں رکھتا اور جو رکھتا ہے کچھ انوکھا ہی ہوتاہے۔آجکل تو اس حوالے سے ہر زبان پر ایک ہی نام ہے سمجھ تو آپ گئے ہیں۔
ویسے زندگی میں کچھ فیصلے،کام گرگٹ کی مانند ہوتے ہیں ، اپنے آپ کو ہر سانچے میں ڈھلنے کی کوششوں میں مصروف عمل رہتے ہیں۔ موصوف کو پہلے سیاست کا شوق ہوا اور ایک پارٹی میں شمولیت اختیار کر کے اسمبلی میں براجمان ہوگئے ۔ موصوف کی لفاظی ہی ان کو اس مقام تک لائی تھی اور یہ ہی لفاظی ان کے اترنے کا باعث بھی بنی۔
موصوف نے دوران سیاست ہی عالم کی حیثیت سے میزبانی کے فرائض ایک نجی چینل میں سر انجام دیئے جو کہ ان کی اصل وجہ شہرت بنی اور ایسی بنی کے دنیا جان گئی پاکستان کی تاریخ کا انوکھا لفاظدان جس نے شہرت کی خاطر آئے روز نت نئے حیلے بہانے واویلے سے کبھی ایک چینل تو کبھی دوسرے چینل مزے کی بات تو یہ کہ جب ایک چینل سے روٹھ کر دوسرے جاتے تو پہلے والے کی برائیوں کا انبار لگا دیتے۔اور سونے پہ سہاگہ واپس خوشی خوشی اسی چینل میں باآسانی چلے بھی جاتے اور وہ چینل والے بھی خوشی سے رکھ بھی لیتے۔ دوغلہ پن دو طرفہ۔۔ حیرانی ہوتی ان حرکات پر ۔موصوف کو عزت کی شاید پرواء دور دور تک نہ تھی۔
موصوف کچھ بھی کریں پاکستانی عوام میں ہمیشہ انٹرٹینمنٹ کی وجہ بنے رہے کبھی رمضان ٹرانسمیشن کا مرکزی کردار کے طور پر، کبھی نیوز اینکر کے طور پر، تو کبھی سیاسی کارکن بن کر۔ ایک پارٹی چھوڑی پھر دوسری کو جوائن کیا جب قربانی کا وقت آیا تو دم دبا کر سائیڈ سے نکل گئے اور اسی پارٹی کے خلاف کھل کر بیان داغنے لگے،لوگوں کے لئے کچھ نیا نہیں تھا بس ان کی لفاظی تھی جس کے لوگ کچھ دیوانے ہو چلے تھے۔ رمضان ہو یا کوئی بڑی رات ان کی دعا کے سب دیوانے تھے یہ کسی بھی چینل میں کچھ بھی کر رہے ہوں خاص راتوں میں یہ محافل منعقد کرتے رہے تھے۔
موصوف کی سیاست میں ایک بار پھر شمولیت نے لوگوں کو لعن طعن کرنے پر مجبور کردیا۔کیونکہ اس بار وہ سیاست کے ساتھ ایک نیوز اینکر بھی ہوگئے تھے اور ہمیشہ کی طرح انہوں نے یو ٹرن لیا ۔جس چینل سے نکالے گئے اس کے ہی خلاف ہوگئے اور جب معاملات حل ہوئے تو دوبارہ شمولیت اختیار کرلی۔۔اس وقت ایک فقرء یاد آرہا ہے کہ تھوک کر۔۔۔۔ لیا ۔
اب اس میں کتنی حقیقت ہے یہ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ بیک وقت نیوز اینکر اورمعروف سیاسی کارکن ہوتے ہوئے ایک اعزاز بھی اپنے نام کر بیٹھے تھے۔ ابھی الیکشن کو جمعہ جمعہ آٹھ دن ہی گزرے تھے کہ لفاظدان کی لفاظیوں نے ایک بارپھر پاکستانی عوام کو لطف اندوز کیا۔ اپنی ہی پارٹی پر تنقید اور روٹھنے کی اداکاری بڑی ہی خوبصورتی سے کرتے ہوئے انہوں نے بڑی بھڑاس نکالی اور اس کا کامیاب نتیجہ نکلا کہ وزارت کے لئے چن لیا گیا۔
اب آپ بھی جان لیں لفاظدان ہونا آسان نہیں پر اگر آپ میں عزت غیرت اور تحمل مزاجی بلکل نہیں تو آپ الفاظ کا چناؤ کرتے وقت چھان بھٹک کریں ورنہ کہیں لوگ آپ کو بھی چرب زبان یا لفاظدان نہ کہنا شروع کردیں۔










اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔