محسن نقوی کی عباس عراقچی سے ملاقات؛ 'تہران امریکی جواب کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے'

داخلی سطح پر ایسے جدید ہتھیار تیار کر لیے ہیں جنہیں ابھی تک میدانِ جنگ میں استعمال نہیں کیا گیا: ایران
شائع 21 مئ 2026 02:38pm

ایران اور امریکا کے درمیان تعطل کا شکار امن مذاکرات کو دوبارہ بحال کرنے اور جنگ بندی کے مسودے پر جاری اختلافات کو دور کرنے کے لیے پاکستان نے ایک بار پھر اپنا اہم سفارتی کردار ادا کرنے میں تیزی پیدا کرلی ہے۔ اسی سلسلے میں پاکستان کے وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی نے جمعرات کے روز تہران میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ایک انتہائی اہم ملاقات کی ہے۔

اسلام آباد اس وقت دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کی آمد و رفت اور رابطوں کو بحال رکھنے کے لیے ایک معتبر ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

اگرچہ اس حالیہ ملاقات کی تفصیلی معلومات ابھی تک باضابطہ طور پر سامنے نہیں لائی گئی ہیں، تاہم وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس سے قبل اسی ہفتے کے اوائل میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی سے بھی تفصیلی مشاورت کی ہے جس سے اس دورے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

دوسری جانب ایران کے دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس سفارتی پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مجوزہ جنگ بندی کے دستاویز کے الفاظ اور شرائط پر پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ایران کے چودہ نکات پر مشتمل اصل متن کی بنیاد پر اب تک کئی مواقع پر دونوں اطراف سے پیغامات کا تبادلہ کیا جا چکا ہے۔

اسماعیل بقائی نے مزید واضح کیا کہ ہمیں اس سلسلے میں اب امریکی جانب سے ان کے نقطہِ نظر اور آراء موصول ہو چکی ہیں اور ہم اس وقت ان کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں۔

ایک طرف جہاں یہ پردہِ سیمیں کے پیچھے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تو دوسری طرف ایران نے امریکا کی ممکنہ عسکری کارروائیوں کے جواب میں اپنی جنگی تیاریوں کا بھی کھل کر اظہار کیا ہے۔

ایران کے ایک عسکری ذریعے نے روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ تہران کے پاس ایسے جدید ترین ہتھیار موجود ہیں جنہیں ابھی تک سامنے نہیں لایا گیا ہے۔

امریکا کے ممکنہ حملوں کا جواب دینے کے لیے ایران کی تیاریوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اس فوجی اہلکار نے نیوز ایجنسی ’ریا نووستی‘ کو بتایا کہ ہم نے داخلی سطح پر ایسے جدید ہتھیار تیار کر لیے ہیں جنہیں ابھی تک میدانِ جنگ میں استعمال نہیں کیا گیا۔

روسی میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس ایرانی فوجی عہدیدار نے تہران کے پختہ عزم کو دہراتے ہوئے مزید کہا کہ اگر ہم فوجی ساز و سامان اور دفاعی صلاحیتوں کی بات کریں تو ہمارے پاس کسی بھی قسم کی کوئی کمی نہیں ہے جو ہمیں اپنے ملک کا دفاع کرنے سے روک سکے۔

انہوں نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اس بار ہمارا کسی بھی قسم کے صبر یا تحمل کا مظاہرہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔