پاکستان میں 79 مزید افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق،تعداد 1495 ہوگئی
فائل فوٹوکراچی،لاہور:پاکستان میں مزید افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی، جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 1495 ہوگئی جبکہ پاکستان میں کورونا وائرس سے اموات 12 ہوگئیں۔
ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، آج مزید 79 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد کوروناوائرس سےمتاثرین کی تعداد1495 ہوگئی۔
ہنجاب نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد سب زیادہ 557 ہوگئی جبکہ سندھ میں469،خیبرپختونخوامیں 188،بلوچستان میں 133،گلگت بلتستان میں107،اسلام آباد میں 39اورآزادکشمیرمیں متاثرین کی تعداد2ہوگئی۔
ملک بھر میں اب تک وائرس سے متاثر 25 مریض صحت یاب ہوگئے جبکہ 7 کی حالت تشویشناک ہے۔
پاکستان میں اب تک کورونا وائرس سے مجموعی طور پر 12 ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں سے پنجاب میں 5، خیبرپختونخوا میں 4 جبکہ سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں ایک ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔
ملک بھر میں لاک ڈاؤن
پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافے کے بعد چاروں صوبوں میں لاک ڈاؤن ہے جبکہ ملک بھر میں فوج تعینات ہے۔
کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے چینی میڈیکل ٹیم پاکستان پہنچ گئی
چینی حکومت کی طرف سے خصوصی طیارہ امدادی سامان اور کورونا ماہرین پر مشتمل چینی ڈاکٹروں کی 8 رکنی میڈیکل ٹیم لے کر اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچ گیا۔
چینی میدیکل ٹیم ارمچی سے خصوصی پرواز کے ذریعے امدادی سامان لے کر اسلام آباد پہنچ گئی۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، سیکرٹری خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے چینی ڈاکٹرز کا استقبال کیا۔
‘میری کوشش ہے سندھ کے عوام کو کورونا وائرس سے بچاؤں’
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کورناوائرس کے متعلق اجلاس ہوا۔
ترجمان وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق اجلاس میں صوبائی وزراء،چیف سیکریٹری،آئی جی پولیس،ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ،وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ،کور5، رینجرز، ایف آئی اے، سی اے اے ، ڈبلیو ایچ او اور دیگر اداروں کے متعلقہ افسران شریک ہوئے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ میں کل 469 کیسز ہیں۔ان کیسز میں 265 سکھر، 189 کراچی، 1 دادو، 7 لاڑکانہ اور 7 حیدرآباد کے ہیں۔
آج کراچی میں نئے 12 کیسز آئے ہیں۔اس حساب سے مقامی منتقلی کے کیسز 132 ہوگئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نےکہاکہ پچھلے3دن سے 41 کیسز ہوئے ہیں۔
کراچی کےکیسز میں 1 اٹلی ، 8 شام، ،6 دبئی ، 6 ایران ، 1قطر ، 7سعودی عرب ،6 ترکی ، 5 امریکا ، 2 سوئٹزرلینڈ ،11 برطانیہ اور 1 عراق کا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ میری کوشش ہے سندھ کےعوام کو کورونا وائرس سے بچاؤں، جس میں میرے ساتھ عوام کا بڑا ساتھ ہے۔لاک ڈاؤن میں عوام کے تعاون کی ضرورت ہے۔ہم اپنے ہیلتھ سروسز پر اس لاک ڈاؤن کے دوران توجہ دے رہے ہیں۔
کراچی کے دو بڑے نجی اسپتالوں کے متعدد ڈاکٹرز کرونا کا شکار
کراچی کے دو بڑے نجی اسپتالوں کے متعدد ڈاکٹرز اور عملے کے افراد کرونا وائرس کا شکار ہو گئےپہلے اسپتال کے دو ڈاکٹروں سمیت عملے کے تین افراد کرونا وائرس کا شکار ہوئے جبکہ دوسرے اسپتال کے ایک ریڈیولوجسٹ بھی کرونا وائرس سےمتاثرہوگئے۔
کراچی میں مسیحا بھی مہلک وائرس کی زد میں آگئے۔متاثرہ ڈاکٹر اور طبی عملہ آغا خان اور لیاقت نیشنل اسپتال میں ڈیوٹی انجام دے رہا تھا۔
آغاخان اسپتال کے دو ڈاکٹروں سمیت عملے کے تین افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔جن میں ایک سرجن اور ایک ریڈیا لوجسٹ شامل ہے۔
لیاقت نیشنل اسپتال کے ریڈیالوجسٹ میں تبلیغی اجتماع سے واپسی پر ٹیسٹ مثبت آیا۔متاثرہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کو ان کے گھروں میں قرنطینہ منتقل کر دیا گیا ہے۔جبکہ اسپتال میں اسکریننگ اور ٹیسٹنگ بند کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق آغا خان اسپتال جلد ہی کورونا وائرس کی ہوم ٹیسٹنگ شروع کرنے جا رہا ہے۔کورونا وائرس کے کنفرم مریضوں کو آغا خان کے ذیلی اسپتال میں رکھا جائے گا۔
سندھ اور بلوچستان میں باجماعت نماز اور جمعے کے اجتماعات پر پابندی
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے سندھ حکومت نے ایک اور بڑا فیصلہ کرتے ہوئے صوبے بھر کی مساجد میں باجماعت نماز اور جمعے کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی جو 27 مارچ سے 5 اپریل تک ہوگی۔
حکومت بلوچستان نے بھی کورونا وائرس پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے کورونا وائرس کی رو ک تھام کی احتیاطی تدابیر کے تناظر میں نماز جمعہ کی ادائیگی کا ایڈوائزری نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تمام جامع مساجد نماز جمعہ کیلئے کھلی رہیں گی،مساجد میں نماز جمعہ کے تمام مناسک کی ادائیگی معمول کے مطابق ہوگی۔
نماز جمعہ کی جماعت میں مسجد کے پیش امام کے علاوہ 3 سے 5 افراد جن میں موزن کیئرٹیکر اور خادم شامل ہیں شریک ہوں گے،عوام الناس اپنے گھروں میں نماز جمعہ کی ادائیگی کریں گے،نوٹیفکیشن 4 اپریل 2020 تک نا فذالعمل رہے گا ۔



















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔