ہوٹلزکو ہنگامی قرنطینہ بنانے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
فائل فوٹواسلام آباد ہائیکورٹ نے ہوٹلزکو ہنگامی قرنطینہ بنانے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ۔
اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ہوٹلزکو ہنگامی صورتحال میں قرنطینہ بنانے کے خلاف درخواست پرسماعت کی۔
وکیل نجی ہوٹل نے دلائل میں کہاکہ این ڈی ایم اے کی جانب سے ہوٹل کوقرنطینہ بنانے کے احکامات جاری کئے، جن کا انہیں اختیارہی نہیں ، حکومت نجی پراپرٹی کی بجائے وزیراعظم کا گھرقرنطینہ سینٹرکے طورپرکیوں استعمال نہیں کرتی۔
جس پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت جوکررہی ہے عوام کے تحفظ کیلئے کررہی ہے ،عدالت مداخلت کیسے کرسکتی ہے؟۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر درخواستگزاریہ سمجھتا ہے کہ اس اقدام سے اسےنقصان ہوا ہے تووہ بعد میں ہرجانے کا دعوی کرسکتا ہے اگرعوامی تحفظ کی بات ہوتواس کیلئے حکومت میرا گھربھی استعمال کرسکتی ہے،یہ عدالت عوامی تحفظ کیلئے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات سے متصادم کوئی فیصلہ کیسے دے سکتی ہے۔
بعدازاں اسلام آبادہائیکورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔