ایران کو پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا مکمل حق حاصل ہے: روس
ماسکو میں روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
سرگئی لاروف نے ماسکو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایران بھی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا رکن ہے، اس لیے اسے دیگر رکن ممالک کی طرح پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق انہوں نے کہا کہ روس ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکراتی عمل میں مداخلت نہیں کرے گا، روسی وزیر خارجہ کے مطابق ماسکو کا مؤقف ہے کہ ایران اور امریکا اگر کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں تو روس اس کی حمایت کرے گا، بشرطیکہ وہ دونوں فریقین کی رضامندی سے طے پائے۔
روسی خبر رساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق لاروف نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں فیصلہ کن کردار انہی دو ممالک کا ہوگا، جب کہ روس ثالثی کے بجائے حمایت تک محدود رہے گا۔
قبل ازیں، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا تھا کہ ایران کے پُرامن یورینیم افزودگی کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور یہ معاملہ مذاکرات میں ناقابلِ گفت و شنید ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ یہ بات قطعی ہے کہ یہ کوئی ایسا موضوع نہیں جس پر ہم بات چیت یا سمجھوتہ کریں۔ معاہدہ عدم پھیلاؤ کے تحت ایران کے افزودگی کے حق کو تسلیم کیا جا چکا ہے۔
واضح رہے کہ یورینیم افزودگی کا معاملہ امریکا اور ایران کے درمیان سب سے بڑا اختلاف بن چکا ہے، کیونکہ امریکا ایران سے کم از کم دو دہائیوں تک مکمل طور پر یورینیم افزودگی روکنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
اتوار کے روز ایرانی خبر رساں ادارے ’فارس‘ نے خبر دی تھی کہ امریکا نے مذاکرات کی بحالی کے لیے 400 کلو گرام افزودہ یورینیم کی امریکا کو حوالگی سمیت پانچ شرطیں عائد کر رکھی ہیں۔ تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ان رپورٹس کو محض قیاس آرائیاں قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ تہران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور اسے فوری طور پر فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے، ورنہ اس کے نتائج ایران کے لیے سنگین ہوں گے۔
اس پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی دباؤ، دھمکی یا طاقت کے آگے نہیں جھکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ماضی میں جنگ مسلط کر کے بھی ناکام رہا ہے اور تہران اپنے مؤقف اور مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔













