ذخیرہ اندوزوں کیخلاف آرڈیننس وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد صدر مملکت کو بھجوادیاگیا

شائع 17 اپريل 2020 08:27pm
فائل فوٹو

ذخیرہ اندوزوں سے متعلق آرڈیننس وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد صدر کو بجھوا دیاگیا۔ذخیرہ اندوزی پر تین سال قید اور ضبط مال کی مالیت کا پچاس فیصد جرمانہ عائد ہو گا ۔اطلاق  اسلام آباد کی حدود میں ہوگا۔

ذخیرہ اندوز حکومت کے ریڈار پر ، وفاقی کابینہ نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت سزاؤں پر مشتمل آرڈیننس کی منظوری دے دی ۔آرڈیننس کےتحت مقررہ حد سے زیادہ اشیاء کا اسٹاک یا اسٹوریج کرنا  اور طلب بڑھنے کے باوجود فروخت نہ کرنا ذخیرہاندوزی کہلائے گا۔

آرڈیننس کے مطابق ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کو تین سال قید،ضبط شدہ مال کی مالیت کا پچاس فیصد بطورجرمانہ عائد ہو گا۔

ذخیرہ اندوزی میں ملوث ادارے کے ملازمین  کے بجائے مالک کے خلاف کارروائی ہوگی جبکہ ذخیرہ اندوزی کی نشاندہی کرنے والے افراد کو ضبط کی جانے والی اشیاء کی مالیت کا دس فیصدبطور انعام دیا جائے گا۔

 ڈپٹی کمشنر یا ان کی جانب سے مقرر کردہ افسر  کو چھاپہ مارنے اور گودام بند کرنے، ضبط شدہ سامان کی نیلام کرنے اور بغیر وارنٹ ناقابل ضمانت گرفتاری کا اختیار حاصل ہوگا ۔

جرم ثابت ہونے پر نیلامی کی رقم حکومت پاکستان کے اکاونٹ میں جمع ہوگی۔

آرڈیننس کے تحت  ذخیرہ اندوزوں کےخلاف اسپیشل مجسٹریٹ 30 روز کے اندر مقدمے کی سماعت مکمل کرے گا۔