پاناما پیپرز ،تحقیقات کیلئے کمیشن کے سربراہ کی تاحال تلاش جاری

شائع 17 اپريل 2016 04:57pm

panama_image

اسلام آباد:حکومت کو آف شور کمپنیز کے معاملے کی تحقیقات کیلئے بنائے جانے والے کمیشن کا سربراہ ہی نہیں مل رہا، ججز سے لیکر چیئرمین سینٹ رضاربانی تک کوئی راضی نہیں، آخر بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔

پاناما لیکس کا سربراہ کون بنے گا؟ یہ ایک سوال ہے جس نے حکومت کی بھی نیندیں اڑدی ہیں،سابقہ ججز نے حکو مت کی جانب سے کمیشن کی سربراہی کی پیشکش ٹھکرا دی ہے۔

جسٹس ناصر الملک نے کمیشن کی سربراہی سے انکار کیا۔جسٹس تصدق جیلانی بھی کسی صورت راضی نہیں۔جسٹس امیرالملک مینگل نے بھی حکومت کو صاف منع کردیا۔جسٹس ساحرعلی اور جسٹس تنویر خان بھی راضی نہیں۔

ان ججز کے انکار کی خود وزیر داخلہ نے تصدیق کی اور اگر کبھی خبروں میں کسی ممکنہ سربراہ کا نام آتا بھی ہے تو تصدیق سے پہلے ہی اسکی تردید یا پھر اس پر اعتراض اٹھ جاتا ہے۔اس مشکل کا حل اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے یہ کہہ کر دینے کی کوشش کی کہ اگر جج نہیں ملتا تو پارلیمانی کمیٹی بنا کر چیئرمین سینیٹ کو اسکا ہیڈ بنادیا جائے لیکن یہ تجویز بھی ابھی فقط ایک رائے ہی تھی کہ رضا ربانی صاحب نے خورشید شاہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سربراہ بننے سے صاف انکار کردیا۔

انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں حقائق سے متعلق مشکل سوالات ہوں گے اورتحقیقات کے لیے وائٹ کالر کرائم میں مہارت درکار ہے، جو انکے پاس نہیں،رضا ربانی کی اس معذرت کو وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے خوش آئندہ قراردیا۔اپوزیشن سربراہی کیلئے سٹنگ چیف جسٹس کا مطالبہ کرہی ہے لیکن یہاں تو حکومت کو سپریم کورٹ کے کوئی سابق جسٹس ہی نہیں مل رہے، آخر معاملہ آگے کیسے بڑھے گا۔