اسرائیل کی ایک بار پھر ایران کی توانائی تنصیبات اور سینئر ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی تیاری
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکا ایران پر ممکنہ نئے حملوں کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے کر رہے ہیں۔
یہ مشاورت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث حال ہی میں ہونے والی جنگ بندی خطرے میں پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔
سی این این نے ایک اسرائیلی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ان ممکنہ حملوں کا مقصد ایران کے توانائی کے ڈھانچے اور اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانا ہے تاکہ ایک مختصر مہم کے ذریعے ایران پر مذاکرات میں مزید مراعات دینے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق اس ارادے کا مقصد ایک مختصر فوجی مہم چلانا ہے تاکہ ایران کو مذاکرات کے دوران مزید لچک دکھانے پر مجبور کیا جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ان حملوں کے زیادہ تر منصوبے اپریل کے اوائل میں ہونے والی جنگ بندی سے پہلے ہی تیار کر لیے گئے تھے، تاہم دوبارہ کارروائیاں شروع کرنے کا حتمی فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔











