ٹرمپ کا پوپ پر ایک بار پھر لفظی حملہ، امریکی وزیر خارجہ مشکل میں پڑ گئے

ایران اور امن پالیسی پر اختلاف، امریکی وزیر خارجہ کے ویٹیکن مذاکرات پر دباؤ بڑھ گیا
شائع 06 مئ 2026 01:25pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ویٹیکن کے سربراہ پوپ لیو کے درمیان ایران اور امیگریشن پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی لفظی جنگ نے نئی سفارتی پیچیدگیاں پیدا کردی ہیں، جو امریکی وزیر خارجہ کے آئندہ ویٹیکن دورے کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پوپ لیو پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے حوالے سے نرم موقف رکھتے ہیں اور ان کے بیانات دنیا کو غیر محفوظ بنا رہے ہیں۔

ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ پوپ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کے بارے میں مثبت انداز میں بات کرتے ہیں، جس سے ان کے مطابق نہ صرف کیتھولک کمیونٹی بلکہ عام شہری بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

تاہم ویٹیکن کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پوپ نے کبھی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی حمایت نہیں کی، بلکہ وہ ہمیشہ امن مذاکرات اور جنگ سے بچاؤ پر زور دیتے رہے ہیں۔

پوپ لیو نے صحافیوں سے گفتگو میں واضح کیا کہ کیتھولک چرچ طویل عرصے سے جوہری ہتھیاروں کی مخالفت کرتا آیا ہے اور ان کے بیانات بائبل اور مذہبی تعلیمات کے مطابق ہیں، نہ کہ کسی سیاسی موقف کے طور پر۔

اس تنازع کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اس ہفتے ویٹیکن کے دورے پر جانے والے ہیں، جہاں ان کی کوشش ہوگی کہ کشیدگی کم کی جائے۔ تاہم ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال ان کے لیے سفارتی چیلنجز بڑھا سکتی ہے۔

روبیو نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا عالمی سلامتی کے لیے ضروری ہے اور اس پر دنیا کو یکساں مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔

دوسری جانب پوپ نے ٹرمپ کی حالیہ تنقید کے جواب میں کہا کہ ان کے بیانات کا مقصد انجیل اور امن کا پیغام پہنچانا ہے، اور اگر اس پر تنقید کی جاتی ہے تو اسے سچائی کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی داخلی سیاست میں بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور آئندہ وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر خارجہ پالیسی کے معاملات زیادہ حساس ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ٹرمپ نے پوپ پر تنقید کی تھی، جبکہ ویٹیکن اور امریکی پالیسیوں کے درمیان اختلافات حالیہ مہینوں میں نمایاں رہے ہیں۔