ایران کا متحدہ عرب امارات کے کچھ ساحلی علاقوں کو قبضے میں لینے کا دعویٰ

ایرانی حکام کے مطابق ایک نیا بحری نقشہ جاری کیا گیا ہے جس میں توسیع شدہ حدود دکھائی گئی ہیں۔
شائع 05 مئ 2026 05:30pm

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنے بحری دائرہ کار میں توسیع کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے کچھ ساحلی علاقوں کو بھی شامل کر لیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ایک نیا بحری نقشہ جاری کیا گیا ہے جس میں آبنائے ہرمز سے آگے بڑھتی ہوئی توسیع شدہ سمندری حدود دکھائی گئی ہیں، جن میں یو اے ای کے بعض اہم ساحلی حصے بھی شامل ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق ایران نے ایک نئے بحری نقشے کے ذریعے اپنی کنٹرول شدہ سمندری حدود میں توسیع کا دعویٰ کیا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقوں کے کچھ حصے بھی شامل دکھائے گئے ہیں۔

ایرانی مؤقف کے مطابق یہ نئی حدود آبنائے ہرمز سے آگے بڑھتی ہوئی خلیجِ عمان تک پھیلتی ہیں، جہاں یو اے ای کے اہم ساحلی شہر فجیرہ اور خورفکان واقع ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ علاقے اب اس کے زیرِ کنٹرول بحری دائرہ کار میں شامل ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق فجیرہ اور خورفکان(امارتِ شارجہ کا حصہ) دونوں بندرگاہیں یو اے ای کے لیے اس وقت خاص اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ یہ خلیجِ عمان پر واقع ہیں اور حالیہ کشیدگی کے دوران یو اے ای نے انہی بندرگاہوں کے ذریعے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے تیل کی ترسیل جاری رکھی۔

خصوصاً فجیرہ کی بندرگاہ کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ ابو ظہبی کروڈ آئل پائپ لائن کے اختتامی مقام پر واقع ہے، جو اندرونِ ملک آئل فیلڈز سے خام تیل یہاں منتقل کرتی ہے۔ اسی نظام کے ذریعے یو اے ای جنگی حالات کے باوجود عالمی منڈیوں کو تیل فراہم کرتا رہا ہے۔

ایرانی مؤقف کے مطابق اگر ان بندرگاہوں تک رسائی پر مؤثر کنٹرول قائم کر لیا جائے تو اس سے یو اے ای پر بحری دباؤ میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم اس دعوے پر کسی آزاد یا بین الاقوامی ذریعے سے تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

پیر کو متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور میزائل حملوں کا الزام عائد کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے مطابق ان کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی طرف سے مبینہ طور پر فائر کیے گئے 15 میزائلوں اور چار ڈرونز کو فضا میں ہی ناکارہ بنایا۔

اس دوران مشرقی خلیجی امارت فجیرہ میں ایک ڈرون حملے سے تیل کی تنصیب میں آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں تین بھارتی شہری زخمی ہوئے۔ تاہم، ایران نے ان حملوں یو اے ای پر حملوں کی تردید کرتے ہوئے انہیں امریکی مہم جوئی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

اس دوران آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کے ایک تجارتی جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی۔ امریکا نے اس کارروائی کا الزام ایران پر عائد کیا۔

واضح رہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے پیر کے روز آبنائے ہرمز کا ایک نیا نقشہ جاری کیا تھا، جس میں ان علاقوں کی نشاندہی کی گئی۔ پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری نقشے میں ایک لکیر ایران میں کوہ مبارک اور متحدہ عرب امارات میں فجیرہ کے جنوب میں کھینچی گئی جب کہ دوسری لکیر ایران میں قشم جزیرہ اور متحدہ عرب امارات میں ام القوین کے درمیان کھینچی گئی ہے۔ پاسدارنِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ ان لکیروں کے درمیان کے علاقے پر ایرانی افواج کا کنٹرول ہے۔

اس سے قبل ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں تمام تجارتی بحری جہاز اور آئل ٹینکرز ایران سے رابطے کے بغیر نقل و حرکت نہ کریں، جب کہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور امریکی بحریہ کو اس کے قریب بھی نہیں آنا چاہیے۔ ترجمان کے مطابق ایران اپنی خودمختاری کے خلاف کسی بھی خطرے کا سخت جواب دے گا، جب کہ ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔