دفتر خارجہ کی افغانستان میں دہشتگرد حملے کی مذمت
فائل فوٹواسلام آباد:دفتر خارجہ نے افغانستان میں دہشتگرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم نے افغان چیف ایگزیکٹو کو دورے کی دعوت دی تھی جو ملتوی کردی گئی ہے،ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے نیوکلئیر صلاحیت کے حامل بیلسٹک میزائل کے تجربے پر تشویش ہے،کلبھوشن کا معاملہ متعلقہ ادارے دیکھ رہے ہیں۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشتگردوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں،وزیراعظم نے افغان چیف ایگزیکٹو کو دورے کی دعوت دی تھی،افغانستان نے دو اور تین مئی کو ان کے دورے کی تصدیق کی تھی تاہم یہ دورہ ملتوی کردیا گیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کے قیام کے لیے پرخلوص کوششیں کر رہا ہے،آپریشن ضرب عضب کے تحت دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، پاکستان بارہا ملک میں تخریب کاری میں ملوث غیر ملکی ہاتھوں کی جانب توجہ دلاتا رہتا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے،کلبھوشن کا معاملہ متعلقہ ادارے دیکھ رہے ہیں ،بھارت کی جانب سے نیوکلئیر صلاحیت کے حامل بیلسٹک میزائل کے تجربے پر تشویش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے سمندر کی نیو کلرائزیشن کا آغاز کیا ہے جس سے خطے میں ایٹمی اسلحے کی دوڑ کا آغاز ہو گا،معاہدے کے تحت تجربے سے پہلے پاکستان کو آگاہ کرنا چاہئیے تھا،ایسا نہ کرنے کی صورت بھی کوئی بھی ملک میزائل لانچ کو خود پر حملہ تصور کر سکتا ہے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔