پانامہ لیکس :سپریم کورٹ بارکی جوڈیشل کمیشن کے طریقہ کار کی مخالفت
چیف جسٹس کمیشن کا حصہ بنے تو بھرپورمخالفت کی جائے گی - فائل فوٹوسپریم کورٹ بارنے پانامہ لیکس پر قائم ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے طریقہ کارپرکی مخالفت کردی ، بار کا کہنا ہے کہ حکومت نے ٹی آراوز سپریم کورٹ پرمسلط کیے ہیں ، چیف جسٹس کمیشن کا حصہ بنے تو بھرپورمخالفت کی جائے گی ۔
سپریم کورٹ بار نے حکومت کے اعلان کردہ جوڈیشل کمیشن کے طریقہ کار کی مخالف کردی ، سپریم کورٹ بارنے موقف اختیار کیا کہ ، حکومت کے جاری کردہ ٹرآف ریفرنس میں آف شورکمپنیاں اورتمام شواہد بیرون ملک ہیں کمیشن کوبیرون ممالک تحقیقات کا اختیارنہیں دیا گیا اس کے ساتھ ساتھ ملک سے باہرجاکربینکوں، اداروں اورافراد تک رسائی اورتحقیقات کا مینڈیٹ بھی نہیں دیا گیا ۔
سپریم کورٹ بارکے مطابق سپریم کورٹ کو لکھے گئے خط میں ٹرم آف ریفیرنس میں تحقیقات کیلئے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا ، نوٹی فکیشن میں وفاقی حکومت نے تکمیل پررپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی عام کرنے کی نہیں سپریم کورٹ بار کا کہنا تھا کہ حکومت سپریم کورٹ کواستعمال کرکے اپنی مرضی کا فیصلہ لینا چاہتی ہے ۔
حکومت نے ٹی آراوز سپریم کورٹ پرمسلط کیے ہیں ،چیف جسٹس کمیشن کا حصہ بنے توبھرپورمخالفت کریں گے، معاملہ آدھے راستے میں نہیں چھوڑیں گے، جلد آئندہ کے جامع لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔