سندھ ہائیکورٹ،آئی جی سندھ سمیت گیارہ افسران پرفرد جرم عائد

شائع 22 دسمبر 2015 01:10pm

12
کراچی:سندھ ہائی کورٹ نے انیس مئی دوہزارپندرہ کوعدالت کے گھیراوٴ اورڈاکٹرذوالفقارمرزا کے ساتھیوں اورصحافیوں پرتشدد کے معاملے پرآئی جی سندھ سمیت گیارہ افسران پرفرد جرم عائد کردی۔

سندھ ہائیکورٹ میں توہین عدالت ازخود نوٹس کی سماعت جسٹس احمد علی ایم شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی دوران سماعت آئی جی سندھ سمیت دیگرتیرہ پولیس افسران کو فرد جرم پڑھ کرسنائی گئی۔جس کے تحت انیس مئی کو پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری نے ہائیکوٹ کا گھیراوٴ کیااورجب ڈاکٹرذوالفقارمرزا ہائیکورٹ پہنچے تونقاب پوش اہلکاروں نے ان کے ساتھیوں اورصحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

ہائیکورٹ کے اطراف اہلکاروں کی تعیناتی سے اے آئی جی فیصل بشیر میمن لاعلم رہے اوررجسٹرارکواہلکاروں کی تعیناتی سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
چیف سیکریٹری اورسیکریٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت کی جانب سے پولیس کوایسے کوئی احکامات نہیں دیئے گئے تھے ۔

دوران سماعت عدالت نے ایس پی طاہرنورانی کی غیرحاضری سے متعلق استفسارکیا ۔جس پرعدالت کو بتایا گیا ایس پی طاہرنورانی عمرے پرگئے ہیں ۔عدالت نے دریافت کیا طاہر نورانی کو چھٹی کس نے دی؟آئی جی سندھ کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا ڈی آئی جی ٹریفک کی سفارش پرآئی جی سندھ نے چھٹی دی ہے۔ جس پرعدالت نے ایس پی طاہرنورانی کی چھٹی کی دستاویزات طلب کرلی،عدالت میں فرد جرم پڑھ کرسنائے جانے کے بعد تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکارکیا۔

عدالت نے سماعت کل صبح گیارہ بجے تک کیلے ملتوی کردی۔