ایران جنگ کے بعد امریکی وزیرِ جنگ کو ہاؤس آرمڈ سروس کمیٹی کے سخت سوالات کا سامنا

پیٹ ہیگستھ نے دفاعی بجٹ اور امریکی جنگی حکمت عملی پر سوالات کے جواب دیے۔
اپ ڈیٹ 29 اپريل 2026 08:46pm

کانگریس کی ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی میں پیٹ ہیگستھ کو قانون سازوں کی جانب سے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا، جہاں ایک رکن نے کہا کہ اگر ایران کا سب سے بڑا خطرہ اس کا جوہری پروگرام تھا اور آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کامیاب ہو چکا ہے تو پھر موجودہ پالیسی کا جواز کیا ہے۔ اس پر ہیگستھ نے کہا کہ ایران کے ارادے اب بھی برقرار ہیں، جب کہ رکن نے ان سے واضح حکمت عملی بیان کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم سماعت کے دوران ہیگستھ براہ راست اور واضح جواب دینے کے بجائے عمومی اور غیر واضح مؤقف دہراتے رہے۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایران جنگ کے بعد پہلی بار کانگریس میں قانون سازوں کے سامنے پیش ہو کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 1.5 ٹریلین ڈالر دفاعی بجٹ کا دفاع کیا اور مختلف پالیسی سوالات کے جواب دیے۔ یہ سماعت امریکی ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں ہوئی، جس میں مالی سال 2027 کے لیے دفاعی اخراجات میں بڑے اضافے کی تجویز زیر بحث آئی۔

پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ وہ اس موقع پر پیش ہو کر خوش ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کے بجٹ کی حمایت کرتے ہیں، جو مالی سال 2027 کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ کا بجٹ موجودہ وقت کی سنگینی اور فوری ضرورت کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ عالمی سطح پر سیکیورٹی صورتِ حال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

ہیگستھ نے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے دفاعی صنعتی نظام کو دوبارہ جنگی سطح کی تیاری پرلا رہا ہے تاکہ کسی بھی بڑے خطرے کا فوری جواب دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں دفاعی صنعت کو تیزی سے مضبوط بنانا ضروری ہے، خاص طور پر ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں۔

سماعت کے دوران قانون سازوں نے دفاعی اخراجات اور امریکا کی جنگی حکمت عملی پر سوالات بھی اٹھائے، تاہم ہیگستھ نے انتظامیہ کے مؤقف کا بھرپور دفاع کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران سے متعلق سوالات پر بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہیں اور توقع ہے کہ یہ موضوع آج کی سماعت میں بھی زیر بحث آئے گا۔

وائٹ ہاؤس کی حکمت عملی سے متعلق سوال پر پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکا کا مقصد ایران کو اس مقام تک لانا ہے جہاں وہ مذاکرات کی میز پر آ کر اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے پر آمادہ ہو جائے۔

انہوں نے صدر ٹرمپ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور اس مقصد کے لیے دنیا کے بہترین مذاکرات کار کام کر رہے ہیں، جب کہ مجموعی حکمت عملی یہی ہے کہ ایران کو اس حد تک لایا جائے کہ وہ اپنے جوہری عزائم ترک کرنے پر تیار ہو جائے۔

پیٹ ہیگستھ کے مطابق گزشتہ سال امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں میں انہیں شدید نقصان پہنچا تھا اور وہ تباہ ہو چکی تھیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود ایران کے جوہری عزائم برقرار ہیں اور اس کے پاس اب بھی ہزاروں میزائلوں پر مشتمل روایتی دفاعی صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ صورتِ حال میں ایران کے جوہری پروگرام اور اس کی عسکری صلاحیت دونوں خطے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے امریکا مسلسل حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔

کانگریس میں جاری سماعت کے دوران پینٹاگون کے ایک اعلیٰ عہدیدار جولز ہرسٹ نے ایران جنگ کے مجموعی اخراجات سے متعلق تازہ اعداد و شمار پیش کیے۔ انہوں نے قانون سازوں کو بتایا کہ اب تک اس جنگ پر تقریباً 25 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر رقم فوجی اسلحہ اور گولہ بارود پر صرف ہوئی ہے۔

سماعت کے دوران ڈیموکریٹ رکن کانگریس ایڈم سمتھ نے کہا کہ قانون ساز طویل عرصے سے اس جنگ کے اخراجات کے اعداد و شمار طلب کر رہے تھے، تاہم انہیں واضح معلومات فراہم نہیں کی جا رہی تھیں۔ انہوں نے پینٹاگون کی جانب سے اب اعداد و شمار سامنے آنے کو اہم پیش رفت قرار دیا، جب کہ یہ معاملہ امریکی دفاعی پالیسی پر سیاسی بحث کو مزید تیز کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس جنگ میں اب تک 13 امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ موجودہ صورتِ حال ایک نازک جنگ بندی کے تحت چل رہی ہے۔

ہیگستھ نے مزید کہا کہ موجودہ جنگ کو دو ماہ مکمل ہو چکے ہیں اور اس کا دورانیہ ماضی کی بڑی جنگوں جیسے عراق، افغانستان اور ویتنام کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ ان کے مطابق انتظامیہ اس فوجی کارروائی کو ایک کامیاب اور اہم اقدام کے طور پر دیکھتی ہے، جس پر امریکی حکومت کو فخر ہے۔

وزیرِ جنگ نے کانگریس میں بعض ڈیموکریٹ اراکین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس وقت امریکا کو سب سے بڑا خطرہ مجرمانہ، کمزور اور مایوس کن بیانات دینے والے ڈیموکریٹس سے ہے۔ ہیگستھ نے یہ ریمارکس ایسے وقت میں دیے جب وہ ایران جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار کانگریس میں پیش ہوئے اور قانون سازوں کے سوالات کا سامنا کر رہے تھے۔