ایران جنگ جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی اجازت ضروری ہوگی: سوزن کولنز

ایران جنگ کے 60 دن مکمل ہونے پر صدر کے لیے لازم ہوگا کہ وہ کانگریس سے منظوری حاصل کریں، امریکی سینیٹرز
شائع 28 اپريل 2026 11:21pm

امریکا میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے 60 دن مکمل ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان آئینی اختیارات اور قانونی منظوری کے معاملے پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جس نے واشنگٹن میں ایک نئی سیاسی اور قانونی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ریپبلکن سینیٹرز کا مؤقف ہے کہ مقررہ مدت کے بعد صدر کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی ہوگی، ورنہ جنگی کارروائی پر پابندی لگ سکتی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق امریکا میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے معاملے پر کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان آئینی اختیارات اور قانونی تقاضوں سے متعلق دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس صورتِ حال نے واشنگٹن میں ایک نئی سیاسی اور قانونی بحث کو جنم دیا ہے کہ جنگی اختیارات کس حد تک صدر کے پاس ہیں اور کب کانگریس کی منظوری لازمی ہوتی ہے۔

ریپبلکن سینیٹرز نے واضح کیا ہے کہ ’وار پاور ایکٹ‘ کے تحت جنگ کے 60 دن مکمل ہونے کے بعد صدر کے لیے لازم ہوگا کہ وہ کانگریس سے باقاعدہ منظوری حاصل کریں۔ سینیٹرز کے مطابق اگر یہ منظوری حاصل نہ کی گئی تو کانگریس کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ فوجی کارروائی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ اس مؤقف نے انتظامیہ پر قانونی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔

سینیٹ کی مالیاتی کمیٹی کی سربراہ سوزن کولنز نے کہا کہ مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد دو ہی راستے ہوں گے یا تو صدر کانگریس سے اجازت لیں یا پھر قانون ساز ادارہ جنگی کارروائی کو محدود یا معطل کرنے کے اقدامات کرے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ براہِ راست آئینی توازن اور جنگی اختیارات کی تقسیم سے جڑا ہوا ہے، اس لیے کانگریس کا کردار ناگزیر ہے۔

دوسری جانب سینیٹر مائیک راؤنڈز نے اشارہ دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر اس ڈیڈ لائن میں 30 دن کی اضافی توسیع کی درخواست کر سکتے ہیں، جو قانون کے تحت اس صورت میں ممکن ہے جب اس کی مناسب اور واضح وجہ پیش کی جائے۔

ان کے مطابق اس ممکنہ توسیعی مدت کے دوران قانون ساز ارکان حکومت سے مزید تفصیلات اور وضاحتیں طلب کریں گے تاکہ جنگ کی موجودہ صورتِ حال کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

راؤنڈز نے مزید کہا کہ سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی اس معاملے پر اعلیٰ دفاعی حکام سے تفصیلی سوالات کرے گی اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو حساس نوعیت کی بریفنگز بند کمرہ اجلاس میں بھی دی جا سکتی ہیں تاکہ مکمل معلومات حاصل کی جا سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتِ حال امریکا میں جنگی اختیارات، صدر کے فیصلوں اور کانگریس کے آئینی کردار کے درمیان ایک اہم اور فیصلہ کن بحث کو جنم دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ کشیدگی بدستور برقرار ہے اور خطے میں صورتِ حال غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔