وزیر دفاع اور آرمی چیف ایران جنگ پر ٹرمپ کو درست معلومات فراہم نہیں کر رہے: جے ڈی وینس کو خدشہ
امریکا اور ایران کے درمیان جاری آٹھ ہفتوں پر محیط جنگ کے دوران اب خود وائٹ ہاؤس کے اندر سے ہی متضاد آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔
ایک تازہ رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ کی صورتحال کے بارے میں مکمل طور پر درست معلومات فراہم نہیں کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جہاں پینٹاگون کے حکام صدر ٹرمپ کو یہ بتا رہے ہیں کہ امریکی فوج نے ایرانی فضائیہ، بحریہ اور دفاعی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، وہیں جے ڈی وینس ان دعوؤں کی حقیقت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
‘دی اٹلانٹک‘ کی رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس نے بند کمرہ اجلاسوں میں بار بار یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا صدر ٹرمپ کے سامنے پیش کی جانے والی جنگ کی خوش کن تصویر واقعی سچ ہے؟
نائب صدر کو خاص طور پر اس بات پر تشویش ہے کہ پینٹاگون شاید امریکی میزائلوں کے ذخیرے میں ہونے والی بڑی کمی کو چھپا رہا ہے۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اگر امریکا کا اسلحہ اسی طرح ختم ہوتا رہا تو مستقبل میں چین، شمالی کوریا یا روس جیسے بڑے حریفوں کے ساتھ ممکنہ ٹکراؤ کی صورت میں امریکا کے پاس دفاع کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔
جے ڈی وینس نے عوامی سطح پر تو وزیر دفاع کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ پیٹ ہیگستھ بہترین کام کر رہے ہیں، لیکن نجی محفلوں میں وہ بہت گہرے اسٹریٹیجک سوالات پوچھ رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہیگستھ کا ٹی وی پر کام کرنے کا تجربہ انہیں یہ جاننے میں مدد دیتا ہے کہ صدر ٹرمپ کیا سننا چاہتے ہیں، اور وہ اکثر صبح آٹھ بجے بریفنگ دیتے ہیں جب صدر فاکس نیوز دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
ایک سابق امریکی اہلکار نے بتایا کہ پیٹ اپنی ٹی وی مہارت کی وجہ سے خوب جانتے ہیں کہ صدر سے کس طرح بات کرنی ہے اور وہ کیا سوچتے ہیں۔
جنگ کے نقصانات کے بارے میں بھی پینٹاگون اور انٹیلی جنس رپورٹس میں واضح فرق نظر آتا ہے۔
جہاں ہیگستھ کا دعویٰ ہے کہ ایرانی فوج تباہ ہو چکی ہے اور ایرانی فضائی حدود پر امریکا کا مکمل کنٹرول ہے، وہیں خفیہ معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ تہران اب بھی اپنی دو تہائی فضائیہ اور میزائل داغنے کی بڑی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اس کے علاوہ ایران کی وہ چھوٹی اور تیز رفتار کشتیاں بھی سلامت ہیں جو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے اور عالمی تجارت کو روکنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔
تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز نے بھی خبردار کیا ہے کہ امریکا اپنے اہم ترین اسلحے کا آدھا حصہ پہلے ہی استعمال کر چکا ہے۔
جے ڈی وینس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شروع ہی سے ایران کے خلاف اس فوجی کارروائی کے مخالف تھے اور انہوں نے خبردار کیا تھا کہ یہ جنگ بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور علاقائی افراتفری کا باعث بنے گی۔
ان کا موقف رہا ہے کہ امریکہ کو اپنے وسائل گھر پر خرچ کرنے چاہئیں۔
رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ ان کا سیاسی مستقبل اور 2028 کے صدارتی انتخاب میں ان کی کامیابی کے امکانات اس ایران جنگ کے نتیجے سے جڑے ہوئے ہیں۔
یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں خود شرکت کی تھی تاکہ کسی طرح اس تنازع کا پرامن حل نکالا جا سکے۔













