کہنیوں کا سیا ہ ہونا، کس بات کی علامت ہے؟
فائل فوٹواکثر لوگ اس مسئلے سے دوچار ہوتے ہیں کہ ان کی جلد کا رنگ کہنیوں اور گھٹنوں سے الگ اور تھوڑا ڈارک ہوتا ہے۔یہ مسئلہ خواتین سمیت مردوں میں پایا جاتا ہے، چونکہ مردوں کا گھومنا پھرنا دھوپ میں زیادہ ہوتا ہےلہذا ان کی جلد زیادہ ڈارک ہوجاتی ہے۔
کہنیوں ، گھٹنوں اور بعض اوقات پنڈلیوں کا رنگ جلد کی رنگت سے زیادہ ڈارک ہونی کی وجہ یہ ہے کہ جلدایک موٹی تہہ پر ڈیڈ اسکن آجاتی ہے، جس کے باعث آپ کی کہنیاں اور گھٹنے کالے ہوجاتے ہیں۔
کہنیوں اور گھٹنوں کا رنگ کالے ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ ایک جگہ بہت دیر تک بیٹھے رہتے ہیں، جیسے کارپٹ میں بہت دیر تک بیٹھ کے ٹی وی دیکھنا ، جس کے باعث آپ کی پنڈلیاں زیادہ کالی ہوجاتی ہیں۔اس کے علاوہ گھٹنوں کے بل بیٹھنے کے باعث بھی گھٹنے کالے ہوجاتے ہیں۔
جو افراد جو کرسی پر کہنیوں کے بل زیادہ دیر تک بیٹھتے ہیں ، ان کو کالی کہنیوں جیسی شکایت ہوتی ہے۔
کہنیوں اور گھٹنوں کا جلد سے زیادہ ڈارک ہونا یقیناً بہت عجیب لگتا ہے۔ اس رنگت کے فرق کو ختم کرنے کے لیے خواتین اور مرد کئی جتن کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ رنگت کا فرق ختم ہوجائے۔
رنگت کے اس فرق کو ختم کرنے کے کئی ہوم رمیڈز موجود ہوتی ہیں۔ڈاکٹرز کا ماننا ہے کہ کہنیوں اور گھٹنوں پر زیادہ سے زیادہ موئسچرائزرکا استعمال کرنا چاہیئے۔اس کے علاوہ ان حصوں میں لیموں کا استعمال کرنے سے بھی رنگت کے فرق میں واضح تبدیلی آتی ہے۔
اگر لیموں کو گھٹنوں اور کہنیوں پر 10 سے 15 منٹ لگائیں ، یہ جلد پر موجود کالے داغوں کو فوری طور پر صاف کردیتا ہے۔
اس کے علاوہ اگر لیموں کے ساتھ بیکنگ سوڈا ملا کے کہنیوں اور گھٹنوں پر لگایا جائے تو اس بھی جلد کی رنگت میں نمایاں فرق آجاتا ہے۔
صرف موئسچرائزراور ہوم رمیڈیزکے استعمال سے گھٹنوں اور کہنیوں کی رنگت جلد کی رنگت جیسی نہیں ہوسکتی۔ اس کے لیے آپ کو ان جگہوں کی خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔زیادہ دیر گھٹنوں کے بل نہیں بیٹھنا چاہیئے، اس سے گھٹنےکالے ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی کہنیوں کو ڈھانپ کے رکھیں اور کرسی پر کہنیوں کو زیادہ نہیں رکھیں اور پنڈلیوں کو کالے ہونے سے بچانے کے لیے کارپٹ پر دیر تک نہیں رکھیں۔
جو لوگ کہنیو ں اور گھٹنوں کو ڈھانپ کر نہیں رکھتے، ان کورنگت کے فرق کی زیادہ شکایت ہوتی ہے۔چونکہ دھوپ تیز ہوتی ہے ، جس کی وجہ سے جلد کی رنگت میں فرق آجاتا ہے۔
لہذا کہنیوں ،گھٹنوں اور پنڈلیوں کو رنگت کے فرق سے بچانے کے لیے اوپر دیے گئے مشوروں پر عمل کریں، اس سے آپ کی جلد کا رنگ بالکل ایک جیسا رہے گااور آپ کو کسی قسم کی پریشانی کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
نوٹ : یہ مضمون محض عام معلومات عامہ کے لیےہے۔ اس پر عمل کرنے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرلیں۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔