ملک میں اٹھارہ سال بعد بھی عدم مردم شماری

شائع 10 جون 2016 04:41pm
sense_image فائل فوٹو

ملک میں اٹھارہ سال بعد بھی مردم شماری نہ ہوسکی۔ملکی معیشت آج بھی اٹھارہ سال قبل کی مردم شماری کے سہارے کھڑی ہے۔ سرکاری اعدادوشمارمعاشی ترقی کے ہوں، آبادی کے یا غربت اور بے روزگاری کے، سب ہی پرسوال اٹھائے جارہے ہیں۔

پاکستان میں آخری مردم شماری اٹھارہ سال قبل انیس سو اٹھانوے میں ہوئی۔ جب ملک کی آبادی تیرہ کروڑ تھی۔ آج مجموعی آبادی اٹھارہ کروڑ ہے یا انیس کروڑیا کچھ اوراس پرصرف قیاس ہی کیا جاسکتا ہے، ایسے میں بجٹ اہداف اورانکی تکمیل محض اعداد و شمارکا گورکھ دہندہ ہی نظرآتی ہے ۔

ماہرین وفاقی ادارہ شماریات کو بھی سرکاری تسلط سے نکالنے پر زور دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت من پسند اعدادوشمار کیلئے ادارے پراثراندازہورہی ہے۔ماہرین نے معاشی ترقی سمیت حکومت کے بیشتراکنامک انڈیکیٹرز پرشک کا اظہار کیا ہے۔ جس نے اقتصادی ومعاشی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑدی ہے۔