امریکا سفارتی کوششوں کو بار بار نقصان پہنچا کر فوجی کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے: ایران
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو بار بار نقصان پہنچا کر فوجی کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے جب کہ انہوں نے امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں ایران کی میزائل صلاحیت سے متعلق دعوؤں کو بھی غلط قرار دے دیا۔
جمعے کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن مسلسل سفارتی عمل کو کمزور کرکے فوجی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
عباس عراقچی نے اپنے پیغام میں سوال اٹھایا کہ آیا یہ ایک دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی ہے یا پھر کسی ایسے فریق کا نتیجہ جو ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک نئے بحران میں دھکیل رہا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کسی مخصوص واقعے یا تفصیلات کا ذکر نہیں کیا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس تمام صورت حال کا نتیجہ ایک ہی ہے کہ ایرانی عوام دباؤ کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائیں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے اور امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کی اس رپورٹ کو بھی غلط قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کے پاس جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 75 فیصد موبائل میزائل لانچرز اور 70 فیصد میزائل ذخیرہ اب بھی موجود ہے۔
عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ ایران کی میزائل انوینٹری اور لانچر صلاحیت 28 فروری کے مقابلے میں 75 فیصد نہیں بلکہ 120 فیصد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام کے دفاع کے لیے ملک کی تیاری 1000 فیصد ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی کے ماحول کے دوران یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں جنگ بندی اور سفارتی حل کے لیے مختلف سطحوں پر کوششیں جاری ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ شدید امریکی اور اسرائیلی بمباری کے باوجود تہران اب بھی نمایاں بیلسٹک میزائل صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنے زیادہ تر زیر زمین ذخیرہ مراکز دوبارہ فعال کر لیے ہیں اور بعض تباہ شدہ میزائل دوبارہ مرمت کرلیے گئے ہیں جب کہ جنگ شروع ہونے کے وقت تیار ہونے والے کچھ نئے میزائل بھی مکمل کیے جا رہے ہیں۔














