'اگلی وبا کورونا سے زیادہ خطرناک ہوگی': ہنٹا وائرس پھیلنے پر بل گیٹس کا پرانا بیان پھر وائرل

سوشل میڈیا پر بل گیٹس سے متعلق دعوے کیے جارہے ہیں کہ انہوں نے ’ہنٹا وائرس‘ سے متعلق پیش گوئی پہلے ہی کردی تھی۔
اپ ڈیٹ 08 مئ 2026 05:24pm

دنیا میں جب بھی کوئی بڑا واقعہ یا وبا پھوٹتی ہے تو اس سے متعلق سازشی نظریات بھی فوراً سامنے آجاتے ہیں۔ ہنٹا وائرس کے حالیہ کیسز اور ہلاکتیں سامنے آنے کے بعد بھی ایسا ہی ہوا اور مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کا ایک پرانا انٹرویو دوبارہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے. اس انٹرویو میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ مستقبل میں آنے والی وبا کوِوڈ 19 سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔

ہنٹا وائرس کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف دعوے گردش کر رہے ہیں، ان دعوؤں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بِل گیٹس نے ’ہنٹا وائرس‘ سے متعلق پیش گوئی پہلے ہی کردی تھی۔

بل گیٹس نے ایک پرانے انٹرویو میں کہا تھا کہ دنیا کو آئندہ وباؤں کے لیے زیادہ بہتر تیاری کرنا ہوگی کیوں کہ ’کووڈ 19‘ کوئی آخری عالمی وبا نہیں تھی۔

دوبارہ وائرل ہونے والے اس انٹرویو میں بِل گیٹس نے امریکی نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اگلی وبا ممکنہ طور پر کووڈ سے زیادہ شدید ہو سکتی ہے۔

اگرچہ مختلف فیکٹ چیک رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان دعوؤں میں بِل گیٹس کے پرانے عمومی بیانات کو حالیہ ہنٹا وائرس کیسز کی خبروں کے ساتھ جوڑ کر مخصوص ’پیش گوئی‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس سے لوگوں میں خوف اور غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بیماریوں سے متعلق ایسی افواہیں خاص طور پر اس وقت تیزی سے پھیلتی ہیں جب عوام پہلے ہی صحت سے متعلق خبروں پر حساس ہوں یا کسی وائرس کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہوں۔ اس کے علاوہ بل گیٹس نے کبھی ’ہنٹا وائرس‘ کا نام لے کر تذکرہ نہیں کیا۔

دوسری جانب لوگوں کی اس معاملے پر تشویش کو اس لیے بھی درست قرار دیا جارہا ہے کیوں کہ چند سال قبل ایسے ہی ایک وائرس نے دنیا بھر میں نظامِ زندگی درہم برہم کردیا تھا۔

کورونا (COVID-19) نامی وائرس کی پہلی بار شناخت دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان میں ہوئی تھی۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اسے 11 مارچ 2020 کو ایک عالمی وبا قرار دیا تھا۔

اس عالمی وبا نے نہ صرف کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کیا بلکہ دنیا کے معاشی، سماجی اور نفسیاتی ڈھانچے کو بھی بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس وبا سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بنے ہیں، جبکہ کروڑوں افراد اس کا شکار ہوئے۔

عالمی ادارہ صحت کے تخمینے کے مطابق اس وبا سے دنیا بھر میں سرکاری طور پر تقریباً 71 لاکھ سے زائد اموات رپورٹ ہوئیں۔ جب کہ عالمی ادارہ صحت اور دیگر طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ اموات کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔

امریکی ادارۂ صحت (سی ڈی سی) کے سابق سربراہ نے بھی حال ہی میں ایک انٹرویو میں ہنٹا وائرس کے حالیہ پھیلاؤ کو ’انتہائی خوفناک‘ قرار دیا ہے۔ وہ اس سے قبل کورونا وائرس کے حوالے سے اپنے بیانات کی وجہ سے بھی خبروں میں رہے، اس لیے اب ہنٹا وائرس پر ان کے بیانات دوبارہ وائرل ہوچکے ہیں۔

ڈاکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے کورونا وائرس کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ وائرس ’کووڈ 19‘ قدرتی طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل نہیں ہوا، بلکہ یہ چین کے شہر ووہان کی ایک لیبارٹری سے غیر ارادی طور پر پھیلا تھا۔

ڈاکٹر روبرٹ ریڈفیلڈ نے امریکی کانگریس میں پیشی کے دوران الزام عائد کیا کہ جب انہوں نے ابتدا میں ’لیب لیک‘ کے امکان کا ذکر کیا تو ڈاکٹر انتھونی فاؤچی اور دیگر حکام نے انہیں سائنسی بحث سے الگ کر دیا تھا۔

انہوں نے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ وائرس کی تیاری میں امریکی فنڈنگ اور تحقیق کا بھی کردار ہو سکتا ہے، حالانکہ انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے پاس اس کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ہنٹا وائرس دراصل جراثیم کا ایسا گروہ ہے جو بنیادی طور پر چوہوں کی مخصوص اقسام کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ وائرس ان جانوروں کو خود تو بیمار نہیں کرتا لیکن ان کے فضلے، پیشاب اور تھوک کے ذریعے ماحول میں پھیل جاتا ہے۔

مئی 2026 میں بحرِ اوقیانوس میں ایک کروز شپ پر اس کے پھیلاؤ کی خبروں نے دنیا بھر کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ یہ سیاحتی جہاز جس کا نام ’ایم وی ہونڈیئس‘ ہے، تقریباً تین ہفتے قبل ارجنٹائن سے روانہ ہوا تھا اور اس نے انٹارکٹیکا سمیت کئی جزائر کا دورہ کرنا تھا۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ایم وی ہونڈیئس نامی کروز شپ پر اب تک اس وائرس سے متاثرہ 3 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایک ڈچ جوڑا اور ایک جرمن شہری شامل ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ پانچ افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ مزید تین مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت نے واضح کیا ہے کہ عام عوام کے لیے خطرہ کم ہے۔ ادارے کی وبائی امراض کی ڈائریکٹر ماریا وان کیرخوف نے کہا کہ یہ صورتِ حال کورونا وائرس جیسی نہیں ہے اور دونوں وائرس ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کو چھ سال پہلے کی عالمی وبا سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔