ہنٹا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد کتنی دیر میں موت واقع ہوتی ہے؟
کیپ وردے کے ساحل پر لنگر انداز ایک جہاز پر موجود مسافروں کے لیے تفریحی سفر اب زندگی اور موت کی جنگ بن چکا ہے۔
بحر اوقیانوس کے ایک پرتعیش بحری جہاز ایم وی ہونڈیئس پر سوار تقریباً 150 افراد اس وقت ایک سنگین طبی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں جب جہاز پر چوہوں سے پھیلنے والے ایک نایاب ہینٹا وائرس نے وبائی شکل اختیار کر لی۔
گزشتہ ماہ ارجنٹائن سے روانہ ہونے والے اس جہاز پر اب تک سات کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں سے تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک مریض کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔
ہنٹا وائرس ایک جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماری ہے، جو بنیادی طور پر چوہوں کے ذریعے پھیلتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس وائرس کے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ادارے نے یہ بھی کہا ہے کہ عام عوام کے لیے عالمی سطح پر خطرہ فی الحال کم ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ وائرس چوہوں کے فضلے، پیشاب یا تھوک میں پائے جانے والے خوردبینی ذرات کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اکثر اوقات انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ کسی پرانے اسٹور روم یا بند کمرے میں سانس لیتے ہوئے اس مہلک بیماری کا شکار ہو چکا ہے۔
انفیکشن کا آغاز بہت خاموشی سے ہوتا ہے اور اس کی علامات ظاہر ہونے میں ایک سے آٹھ ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اس دوران وائرس جسم کے اندر خاموشی سے اپنی تعداد بڑھاتا رہتا ہے جس کی وجہ سے یہ بیماری بہت خطرناک ہو جاتی ہے۔
ابتدائی طور پر اسے عام فلو یا کورونا وائرس سمجھا جاتا ہے کیونکہ مریض کو بخار، سر درد، پٹھوں میں درد اور پیٹ کی تکلیف جیسی شکایات ہوتی ہیں۔ لیکن چند ہی دنوں میں یہ وائرس اپنا اصل رنگ دکھاتا ہے اور پھیپھڑوں کے خانوں میں سیال مادہ بھرنا شروع ہو جاتا ہے جس سے سانس لینا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق، کارڈیوپلمونری مرحلے کے آغاز کے 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر بغیر مناسب علاج کے موت کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ہینٹا وائرس کا فی الحال کوئی خاص علاج، ویکسین یا دوا موجود نہیں ہے۔ ڈاکٹروں کے پاس واحد راستہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مریض کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ یعنی آئی سی یو میں رکھیں اور اس کے آکسیجن لیول اور بلڈ پریشر کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔
یہ دراصل انسانی مدافعتی نظام اور وائرس کے درمیان ایک مقابلہ ہوتا ہے جہاں ڈاکٹر صرف وقت خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر علاج بروقت نہ ملے تو پھیپھڑوں کی تکلیف شروع ہونے کے 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے۔
ایم وی ہونڈیئس پر موجود مسافر اس وقت اسی خوفناک صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سفر کے اس دور میں دور دراز علاقوں میں پائے جانے والے چوہوں کی غلاظت سمندر کے بیچوں بیچ بھی انسانوں تک پہنچ سکتی ہے۔
صحت یاب ہونے والے مریضوں کو بھی مکمل بحالی میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں اور وہ مہینوں تک تھکن محسوس کرتے رہتے ہیں۔ اس وقت سب کی نظریں اس بحری جہاز پر لگی ہیں جہاں زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔















