امریکا نے سعودی عرب، خلیجی اتحادیوں کی ناراضگی پر آبنائے ہرمز آپریشن معطل کیا: امریکی میڈیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے شروع کیے گئے ’’پروجیکٹ فریڈم‘ کو اچانک روکنے کے پیچھے خلیجی اتحادیوں، خصوصاً سعودی عرب کی ناراضی کو اہم وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کے مطابق دو امریکی اہلکاروں نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اتوار کو سوشل میڈیا پر اچانک ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا اعلان کیا تو اس پر خلیجی اتحادیوں کو حیرانی ہوئی تھی، جس پر سعودی قیادت نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔
صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی کنٹرول ختم کرنے اور تجارتی جہاز رانی کی بحالی کے لیے شروع کیا گیا عسکری مشن ’پروجیکٹ فریڈم‘ محض 36 گھنٹے بعد ہی اچانک معطل کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
یہ ڈرامائی تبدیلی اس وقت آئی جب ایک اہم خلیجی اتحادی، سعودی عرب نے اس مخصوص آپریشن کے لیے امریکی فوج کو اپنے فضائی اڈے اور فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے معذرت کر لی۔
امریکی حکام کے مطابق سعودی عرب نے امریکا کو واضح طور پر پیغام دیا کہ امریکی فوج کو ریاض کے جنوب مشرق میں واقع ’پرنس سلطان ایئربیس‘ سے پروازوں یا سعودی فضائی حدود کو اس آپریشن کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صدر ٹرمپ اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والا ٹیلی فون رابطہ بھی اس تعطل کو ختم کرنے میں ناکام رہا، جس کے بعد صدر ٹرمپ کو آپریشن روکنے کا حکم جاری کرنا پڑا۔
این بی سی نیوز نے ایک سعودی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ اور محمد بن سلمان کے درمیان مسلسل رابطہ رہا۔ سعودی حکام نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی سینٹرل کمانڈ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ بھی رابطے میں تھے۔
رپورٹ کے مطابق دیگر خلیجی اتحادی بھی اس منصوبے سے پیشگی طور پر مکمل طور پر آگاہ نہیں تھے۔ قطری قیادت سے بھی صدر ٹرمپ نے اس وقت رابطہ کیا جب آپریشن شروع کیا جا چکا تھا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ خطے کے اتحادیوں کو پیشگی اطلاع دی گئی تھی جب کہ مشرقِ وسطیٰ کے ایک سفارت کار نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے عمان کے ساتھ بھی ’پروجیکٹ فریڈم‘ پر صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد رابطہ کیا۔ سفارت کار کے مطابق عمان اس صورتِ حال پر ناراض نہیں تھا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئربیس پر اس وقت بھی امریکی فوج کے لڑاکا طیارے، ری فیولنگ ٹینکرز اور فضائی دفاعی نظام تعینات ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق خطے میں فوجی کارروائیوں کے لیے سعودی عرب، اردن، کویت اور عمان کی فضائی اور لاجسٹک معاونت انتہائی اہم ہے۔
امریکی ٹی وی کے مطابق اس موقع پر پاکستان کا سفارتی کردار ایک بار پھر مرکزِ نگاہ بن گیا ہے۔ سعودی ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاض اس وقت پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرانے کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی تصدیق کی ہے کہ تہران اس وقت پاکستان کے ذریعے موصول ہونے والی نئی امن تجویز کا جائزہ لے رہا ہے اور اس پر پاکستان کے ساتھ مزید مشاورت کی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کو سوشل میڈیا پر کہا کہ اگر ’ایران پہلے سے طے شدہ شرائط مان لے تو جنگ ختم ہو سکتی ہے‘۔ بعد ازاں اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے۔
امریکی صدر نے پی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امکان ہے کہ وہ اگلے ہفتے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے بیجنگ روانگی سے قبل ایران کے ساتھ معاہدہ کر لیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکا دوبارہ شدید حملے کر سکتا ہے۔
ایک سینئر ایرانی پارلیمانی عہدیدار ابراہیم رضائی نے امریکی تجاویز کو محض خواہشات کی فہرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا جنگ کے ذریعے وہ حاصل نہیں کر سکتا جو براہِ راست مذاکرات سے حاصل نہ کر سکا۔















